Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Hikmat-e-taqleeq.

Urdu · 3 min

حکمتِ تخلیق: قرآن کی سورہ التین میں انسان کی تخلیق اور اس کے انجام کا ذکر آیا ہے۔ اس سلسلے میں آیت کے اصل الفاظ یہ ہیں: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ. سورہ نمبر 98، آیات 4 تا 6۔ یعنی: بلاشبہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا، سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کیے؛ تو ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔

اس آیت میں "أحسن التقويم" سے مراد جنتی تقویم ہے، "أسفل السافلين" سے مراد غیر جنتی دنیا ہے۔ ایمان سے مراد یہ ہے کہ آدمی تخلیق کی اس حقیقت کو دریافت کرے۔ عمل صالح سے مراد ہے اس دریافت اور اس کے تقاضے کے مطابق عمل۔ اجر غیر ممنون سے مراد وہ معیاری جنت ہے جس کے لیے انسان کو بنایا گیا ہے۔

اس تشریح کے مطابق قرآن کی ان آیتوں کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے انسان کو جنتی اوصاف کے ساتھ بنایا۔ اس نے انسان کے اندر ہر اعتبار سے وہ اعلیٰ ذوق رکھا جس کی تکمیل، یعنی فلفلمنٹ، کا سامان صرف جنت کی دنیا میں ممکن ہے۔ پھر اس کو موجودہ غیر جنتی دنیا میں آباد کر دیا۔ اس دنیا میں بظاہر سب کچھ موجود ہے، مگر وہ صرف بقدر ضرورت ہے، نہ کہ بقدر ذوق۔

اب انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ تخلیق کی اس حکمت کو دریافت کرے۔ یہ دریافت اتنی شدید ہو کہ آدمی کی پوری زندگی اسی کے مطابق ڈھل جائے۔ دنیا کی زندگی میں جو لوگ اس کا ثبوت دیں، وہی وہ لوگ ہیں جن کو آخرت کی ابدی جنتوں میں بسایا جائے گا، جہاں وہ ہر اعتبار سے فلفلمنٹ پائیں گے۔ وہ ابدی طور پر ان جنتوں میں رہیں گے۔

جنت کی دنیا ہر اعتبار سے ایک مکمل دنیا ہوگی۔ وہ خوف اور حزن سے پوری طرح خالی ہوگی۔ انسان کا یہی وہ ابدی مستقبل ہے جس کی خبر دینے کے لیے خدا کے تمام پیغمبر آتے رہے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 456۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.