جنتی وجود قرآن کی سورہ تین میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو اعلیٰ بناوٹ کے ساتھ پیدا کیا، پھر اس کو نہایت پستی میں ڈال دیا۔ سورہ نمبر 95، آیات 1 تا 5۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے ایک جنتی مخلوق ہے، مگر موت سے قبل کی زندگی میں اس کو ایک غیر جنتی دنیا میں رہنا پڑتا ہے۔ تخلیقِ انسانی کے بارے میں یہی دریافت سب سے بڑی دریافت ہے۔
جس آدمی کو یہ دریافت ہو جائے، اس کا شعور بہت زیادہ بلند ہو جائے گا۔ وہ کہے گا کہ خدایا، میرا یہ وجود جنت کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، مگر وہ مجبور ہے کہ وہ غیر جنت میں رہے۔ یہ دماغ تو نے اس لیے بنایا تھا کہ وہ جنتی ماحول میں سوچے، لیکن وہ اپنے آپ کو غیر جنتی ماحول میں پا رہا ہے۔ یہ آنکھ جنتی مناظر کو دیکھنے کے لیے بنی تھی، لیکن یہاں جنتی مناظر موجود نہیں۔
یہ کان جنتی آوازوں کو سننے کے لیے بنائے گئے تھے، لیکن وہ مجبور ہیں کہ وہ غیر جنتی آوازوں کو سنیں۔ یہ نظامِ تنفس جنتی ہواؤں میں سانس لینے کے لیے بنا تھا، لیکن یہاں وہ غیر جنتی ہواؤں میں سانس لینے کے لیے مجبور ہے۔ یہ نظامِ ہضم جنتی غذاؤں کے لیے تخلیق کیا گیا تھا، لیکن یہاں اس کے لیے صرف غیر جنتی غذائیں دستیاب ہیں۔ یہ ہاتھ جنتی چیزوں کو چھونے کے لیے بنے تھے، لیکن یہاں ان کے لیے غیر جنتی چیزوں کے سوا کوئی اور چیز موجود نہیں۔
یہ پاؤں جنتی باغوں میں چلنے کے لیے بنے تھے، لیکن یہاں وہ مجبور ہیں کہ صرف غیر جنتی جنگل میں چلیں۔ یہی وہ بات ہے جو حدیث میں اس طرح کہی گئی ہے: الدنيا سجنُ المؤمن صحیح مسلم، رقم الحدیث 5256۔ یعنی دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے۔ جس انسان کو اس حقیقت کا شعور دریافت کے درجے میں حاصل ہو جائے، اس کے لیے یہ دریافت ایک پوائنٹ آف ریفرنس بن جائے گی۔
وہ اس ریفرنس کو لے کر اللہ سے دعا کرے گا کہ خدایا، یہ تیری حکیمانہ تخلیق کے خلاف ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ تو موت کے بعد کی زندگی میں مجھے جنت میں داخل کرے گا، جہاں تیری پیدا کی ہوئی اس شخصیت کو حقیقی معنوں میں فلفلمنٹ حاصل ہو جائے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 466۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.