← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Hubb-e-ilaahi,Mohabbat-e-rasul.
Urdu · 8 min
حب الہی، محبت رسول۔ مومن سے یہ مطلوب ہے کہ اس کو خدا سے اور خدا کے رسول سے نہایت گہرا قلبی تعلق ہو۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو خدا سے محبت کے درجے کا تعلق ہونا چاہیے۔ سورہ نمبر 2، آیت 165۔
جہاں تک رسول کا تعلق ہے، قرآن میں رسول کے لیے "محبت" کا لفظ نہیں آیا ہے، بلکہ "اتباع" اور "اطاعت" کے الفاظ آئے ہیں۔ سورہ نمبر 3، آیت 31۔ تاہم حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول سے بھی محبت کے درجے کا تعلق مطلوب ہے، البتہ اللہ سے محبت اور رسول سے محبت کے درمیان وہی فرق پایا جائے گا جو خود اللہ اور رسول کے درمیان پایا جاتا ہے۔ حب الہی سے مراد عشق الہی نہیں ہے۔
اسی طرح محبت رسول سے مراد عشق رسول نہیں ہے۔ اس معاملے میں عشق کا لفظ قرآن اور حدیث میں اجنبی ہے۔ اس معاملے میں عشق کا تصور بلاشبہ ایک مبتدیانہ تصور ہے جو بعد کے زمانے میں پیدا ہوا۔ محبت کا تعلق شعوری معرفت سے ہے، جبکہ عشق صرف ایک والہانہ کیفیت کا نام ہے۔
حقیقی محبت اعلیٰ معرفت کے ذریعے پیدا ہوتی ہے، جبکہ عشق ایک ایسی مبہم کیفیت کا نام ہے جس کو صرف وجد یعنی ایکسٹسی اور بے خودی جیسی پراسرار حالت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ محبت الہی کا سرچشمہ یہ ہے کہ آدمی جب بے شمار خدائی انعامات کے بارے میں سوچتا ہے تو فطری طور پر اس کے اندر ان انعامات کے منہ کے بارے میں گہرا جذبہ اعتراف پیدا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں رسول سے محبت کا جذبہ اس اعتبار سے پیدا ہوتا ہے کہ رسول کے ذریعے ہم کو خدا کی ہدایت ملی۔ اس کے بغیر ہم خدا کی ہدایت سے محروم رہتے۔
دونوں کے درمیان فرق کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ خدا سے محبت فقط طبیعی جذبے کے تحت پیدا ہوتی ہے، اور رسول سے محبت طبیعی جذبے کے تحت۔ خدا سے محبت رب العالمین سے محبت ہے، اور رسول سے محبت رب العالمین کے فرستادے سے محبت۔ ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين" ۔ ایک اور روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: "من أهله وماله" ۔
فتح الباری بشرح صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب حب الرسول۔ یعنی تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ میں اس کے لیے اس کے والد سے اور اس کی اولاد سے اور اس کے اہل سے اور اس کے مال اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ محبت رسول کے بارے میں جو روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، ان میں یہ بات بہت زیادہ قابل غور ہے کہ ان میں سے کسی روایت میں اس قسم کے الفاظ نہیں آئے ہیں کہ تم رسول سے اسی طرح محبت کرو جس طرح تم خدا سے محبت کرتے ہو۔ اس کے بجائے روایتوں میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں کہ تمہارا ایمان باللہ اس وقت مکمل ہوگا جبکہ تم رسول سے اس سے بھی زیادہ محبت کرو جتنا کہ تم اپنے والد سے، اپنے اہل سے، اور اپنے مال اور اولاد سے محبت کرتے ہو۔
یعنی ان روایتوں میں خدا کے برابر محبت کا ذکر نہیں ہے، بلکہ اپنی محبوبات دنیا سے زیادہ رسول سے محبت کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں محبتوں میں ایک نوعی فرق ہے۔ حب الہی بمعنی تعظیم اور اجلال مراد ہے، اور حب رسول بمعنی ترجیح اور تقابل مراد ہے۔ حب الہی ایک مطلق نوعیت کی محبت ہے۔
اس کے مقابلے میں حب رسول کا معاملہ یہ ہے کہ وہ بمقابلہ محبوبات دنیا مراد ہے۔ جو لوگ محبوبات دنیا سے اوپر نہ اٹھیں، وہ رسول کے ربانی مشن میں اپنے آپ کو پوری طرح وقف نہیں کر سکتے۔ جو آدمی خدا کے رسول کو خدا کے رسول کی حیثیت سے پہچانتا ہے، وہ فوراً ہی یہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ اصحاب رسول کی طرح رسول کے دعوتی مشن میں شامل ہو جائے۔ یہ شمولیت اعلیٰ درجے میں اسی وقت ہو سکتی ہے جب آدمی کو رسول کے ساتھ محبت کے درجے کا تعلق پیدا ہو جائے۔
رسول سے محبت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول سے عاشقانہ اور والہانہ تعلق ہو، جیسا کہ کسی نعت خواں یا قوال میں بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ بلکہ رسول سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ رسول کے دعوتی مشن سے گہرا لگاؤ ہو۔ ہر دوسری چیز کو ثانوی یعنی سیکنڈری بنا کر آدمی رسول کے دعوتی مشن کو اپنا دعوتی مشن بنا لے، جس طرح خود رسول نے اپنی زندگی میں کیا تھا۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 443۔