اللہ کے ساتھ، عربی زبان میں بہت سے مضامین اور کتابیں چھپی ہیں جن کا ٹائٹل اس قسم کا ہوتا ہے: "ایک ساعت فلاں کے ساتھ" یعنی "ساعتٌ مع فلانی"۔ اس طرح کا ٹائٹل بظاہر درست ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ کوئی لکھنے والا اس طرح کے ٹائٹل کے ساتھ کیوں نہیں لکھتا کہ "ایک ساعت اللہ کے ساتھ" یعنی "ساعةٌ مع الله"؟ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے لکھنے والوں کو انسان کی صحبت تو ملی، مگر ان کو اللہ کی صحبت نہیں ملی۔ حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر ایسا لمحہ گزرنا چاہیے جبکہ وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہو: ساعةٌ يناجي فيها ربه.
(حلية الأولياء لابي نعيم جلد 1 صفحہ 221) سرگوشی یعنی whisper، ایک ایسے تجربے کا نام ہے، جبکہ انسان اپنے آپ کو اپنے رب سے قریب پاتا ہے، اتنا زیادہ قریب کہ وہ سرگوشی کے انداز میں اپنے رب سے کلام کرنے لگتا ہے۔ قرآن سے ثابت ہے کہ خدا اپنے بندے سے بہت قریب ہے: سورہ نمبر 2 آیت 286۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سجدے کے وقت انسان خدا سے قربت کا تجربہ کرتا ہے: سورہ نمبر 96 آیت 19۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔
جب ایک انسان اپنے رب کو دریافت کرتا ہے، وہ آفاق و انفس میں گہرائی کے ساتھ غور کرتا ہے، تو بار بار وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کے انتہائی قریب پہنچ گیا ہے۔ اس وقت اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے، اس کی آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں، اس کی آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ربانی فیضان یعنی divine inspiration کے سطح پر خدا سے جڑ گیا ہے۔ اس وقت آدمی کی زبان سے غیر متوقع طور پر اعلیٰ ربانی کلمات ادا ہونے لگتے ہیں، اس کا پورا وجود ایک روحانی تجربے میں غرق ہو جاتا ہے۔
وہ دیکھے بغیر خدا کو دیکھنے لگتا ہے، وہ ہم کلام ہوئے بغیر خدا سے بات کرنے لگتا ہے۔ بظاہر دوری کے باوجود وہ خدا سے آخری حد تک قریب ہو جاتا ہے۔ اس دنیا میں خدا کی قربت یہ ہے کہ کوئی شخص روحانی سطح پر اس طرح اپنے رب کو پا لے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 442۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.