← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Shirk kya hai.
Urdu · 8 min
شرک کیا ہے؟ قرآن کی سورہ البقرہ کی ایک آیت یہ ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۗ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ ۗ وَلَوْ يَرَ الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ۗ وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ. سورہ نمبر 2، آیت 165۔ یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔
وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہیے۔ اور جو اہلِ ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جبکہ وہ عذاب سے دوچار ہوں گے، تو وہ سمجھ لیتے کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے، اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا کیا ہے؟
وہ یہ ہے کہ کسی کو اللہ کا ند ٹھہرایا جائے۔ ند کے معنی مثل، یعنی equal کے ہیں۔ اللہ کے سوا کسی اور کو اس کا ند ٹھہرانا شرک ہے، خواہ وہ کلی معنی میں ہو یا جزئی معنی میں۔ اللہ کا ند ٹھہرانا کن پہلوؤں سے ہوتا ہے؟
مذکورہ آیت میں اس کے دو پہلو بیان کیے گئے ہیں: محبت اور قوت۔ قرآن کی ایک اور آیت کے مطابق اس کا تیسرا پہلو خشیت، سورہ نمبر 9 آیت 18 ہے۔ بنیادی طور پر یہی تین چیزیں ہیں جو شرک کی پہچان ہیں۔ مذکورہ تینوں معاملے میں، جس نے اللہ کے سوا کسی اور کو شریک کیا، اس نے شرک کا ارتکاب کیا۔
حتیٰ کہ اگر کسی شخص نے خود اپنے آپ کو اس قسم کا درجہ دیا، تو اس کا کیس بھی شرک کا کیس بن جائے گا۔ سورہ نمبر 45 آیت 23۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ توحید کا مطلب ہے: ہر اعتبار سے صرف ایک اللہ کو اپنا واحد کنسن، یعنی sole consent بنانا۔ اور شرک کا مطلب ہے: جزئی یا کلی طور پر کسی غیر اللہ کو اس کنسن میں شریک کرنا۔
جب کوئی شخص اللہ کو اس حیثیت سے دریافت کرے کہ یہ اللہ ہے جس نے اس کو عدم سے وجود بخشا، جس نے اس کو اعلیٰ درجے کی شخصیت عطا فرمائی، جس نے اس کو زمین جیسے نادر سیارے پر آباد کیا، جس نے اس کے لیے لائف سپورٹ سسٹم کا انتظام کیا، وغیرہ۔ اس طرح کا احساس آدمی کے اندر اللہ کے ساتھ بے پناہ تعلق پیدا کرتا ہے۔ وہ اللہ کو اپنا سب کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ یہی اللہ کے ساتھ شدید محبت کی بنیاد ہے۔
پھر جب وہ اللہ کی اس حیثیت کو دریافت کرتا ہے کہ یہ تمام چیزیں اس کا ایک طرفہ عطیہ ہیں، کسی بھی وقت اللہ اس کو چھین سکتا ہے، پھر یہ کہ ہر عطیے کے ساتھ جواب دہی، یعنی accountability، جڑی ہوئی ہے۔ یہ احساس اس کو مزید اس اندیشے میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اگر میں نے ان عطیاتِ الٰہی کا حق ادا نہ کیا تو اللہ کے یہاں میری سخت پکڑ ہوگی۔ یہ احساسات آدمی کے اندر وہ کیفیت پیدا کر دیتے ہیں جس کو قرآن میں خوفِ شدید، سورہ نمبر 9 آیت 18 کہا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ اس دنیا میں سارا اختیار صرف ایک اللہ کو حاصل ہے۔
اللہ کے سوا کسی اور کو جزئی درجے میں بھی کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اللہ ہی دینے والا اور اللہ ہی محروم کرنے والا ہے۔ یہ احساس اس کو اپنے کامل، یہ احساس اس کو اپنے عجزِ کامل کی یاد دلاتا ہے۔ وہ اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں پاتا کہ وہ اللہ کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرنڈر کر دے۔
اسی دریافت کا نام معرفت، یعنی realization ہے۔ اس دریافت سے جس کے اندر وہ شخصیت بنے جبکہ ایک اللہ ہی اس کے لیے سب کچھ بن جائے۔ وہ اسی کی یاد میں جیے اور یہی سوچ اس کی غالب سوچ بن جائے۔ ایسا انسان شریعت کی اصطلاح میں مواحد ہے۔
اس کے برعکس، اللہ جس کا واحد کنسن نہ ہو، بلکہ اس کے ساتھ وہ دوسری چیزوں کو بھی اپنا کنسن بنائے ہوئے ہو، ایسا انسان شریعت کی اصطلاح میں شرک میں مبتلا ہے۔ مواحد کی شخصیت integrated personality ہوتی ہے، اور مشرک کی شخصیت split personality۔ split personality اور مشرک کی شخصیت split personality۔ شریعت کے مطابق اللہ انسان کی اصل غایت ہے، اور دوسری چیزیں صرف اس کی ضرورت۔
توحید اور شرک دونوں کا تعلق حقیقت سے ہے، نہ کہ صرف مظاہر سے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 440۔