خدا کا پڑوس: جنت کیا ہے؟ جنت دراصل خدا کے پڑوس میں رہنے کا نام ہے۔ سورہ نمبر 66، آیت 11: موت سے پہلے کی دنیا میں مومن احساس کے اعتبار سے خدا کے پڑوس میں جیتا ہے۔ موت کے بعد کی دنیا میں مومن واقعے کے طور پر خدا کے پڑوس میں زندگی گزارے گا۔
خدا بلاشبہ تمام خوبیوں کا سرچشمہ ہے، اس لیے کسی انسان کو حقیقی سکون صرف خدا کے پڑوس میں مل سکتا ہے۔ اس سے کمتر درجے کی کوئی چیز انسان کے لیے حقیقی سکون کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ موجودہ دنیا دراصل اسی قسم کے انسانوں کا انتخابی مقام، یعنی سلیکشن گراؤنڈ ہے۔ یہاں ان انسانوں کو چنا جا رہا ہے جو اپنی صفات کے اعتبار سے خدا کے پڑوس میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔
جن کی سوچ، جن کی سرگرمیاں، جن کے جذبات، جن کا سلوک، جن کے معاملات اس اعلیٰ اخلاقی معیار پر پورے اتریں جو خدا کا پڑوسی بننے کے لیے مطلوب ہیں۔ یہی لوگ اس عزت کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔ یہ انتخاب فرشتوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ آخرت کی ابدی زندگی میں کسی کو خدا کے پڑوس میں رہنے کی یہ خوش قسمتی تمام تر ذاتی خصوصیت، یعنی میرٹ کی بنیاد پر حاصل ہوگی۔
خدا کا پڑوس گویا کہ ایک کائناتی باغ ہے۔ اس کائناتی باغ میں صرف خدائی معیار پر پورا اترنے والے لوگ ہی جگہ پائیں گے۔ خدائی معیار سے کمتر کوئی چیز کسی آدمی کو اس کائناتی باغ میں جگہ دینے والی نہیں۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا کی زندگی میں صرف خدا کو اپنا واحد کنسن، یعنی سپریم کنسن، بنایا ہو۔
جن کی سوچ اور جن کے جذبات تمام تر خدا کے لیے وقف ہو گئے ہوں۔ جن کی صبح بھی خدا کی یاد سے معمور ہو، اور جن کی شام بھی خدا کی یاد سے معمور۔ یہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو خدا کے پڑوس میں رہنے کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 447۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.