Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Aala rabbaani tajriba.

Urdu · 3 min

اعلیٰ ربانی تجربہ: بعض روایات میں ایک اثر نقل کیا گیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: "إن العبد إذا دعا ربه وهو يحبه قال: يا جبريل لا تعجل بقضاء حاجة عبدي، فإني أحب أن أسمع صوته." جامع العلوم والحکم لابن رجب الحنبلی، صفحہ 342۔ یعنی بندہ جب اپنے رب کو پکارتا ہے، اور وہ بندہ اللہ کو محبوب ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اے جبریل، میرے بندے کی حاجت پوری کرنے میں جلدی نہ کر؛ مجھے محبوب ہے کہ میں اس کی آواز کو سنوں۔ " اس سے مراد سچی معرفت کا کلمہ ہے۔ جب کوئی انسان کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے تمام داخلی احساسات متحرک ہو جاتے ہیں، اس کی چھپی ہوئی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔

یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جس کو جدید نفسیات کی اصطلاح میں ذہنی طوفان یعنی برین اسٹارمنگ کہا جا سکتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے وہ خصوصی کلمات نکلتے ہیں جو سچی حمد کو بیان کرنے والے ہوتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے لاشعور یعنی انکونشس مائنڈ میں خالق کی معرفت گہرائی کے ساتھ موجود ہے، مگر یہ معرفت ابتدائی طور پر خوابیدہ حالت یعنی ڈورمنٹ اسٹیٹ میں ہوتی ہے۔ ان چھپے ہوئے احساسات کو جگانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ انسان کے ساتھ کوئی صدماتی تجربہ یعنی شاکنگ ایکسپیرینس پیش آئے۔

جب ایسا ہوتا ہے تو فطرت میں چھپے ہوئے ربانی احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔ اس وقت آدمی کی زبان سے ذکر و دعا کے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو تخلیقی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ یہ کلمات وہ ہوتے ہیں جن کو اس سے پہلے اس نے نہ سنا تھا اور نہ اپنی زبان سے کہا تھا، اور نہ کہیں ان کو پڑھا تھا۔ یہ ایک انتہائی خصوصی نوعیت کا ذکرِ خداوندی ہوتا ہے۔

اس کو دوسرے الفاظ میں تخلیقی ذکر کہہ سکتے ہیں۔ یہ ایک خصوصی توفیق ہے جو اللہ اپنے منتخب بندوں کو عطا کرتا ہے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 427۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.