Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Shukr-o-iateraaf.

Urdu · 3 min

شکر و اعتراف۔ سب سے بڑی چیز جو انسان سے مطلوب ہے، وہ یہ کہ وہ اپنے خالق و مالک کا شاکر بنے۔ وہ اللہ کی نعمتوں پر اللہ کا اعتراف کرے، مگر دنیا میں سب سے کم جو چیز پائی جاتی ہے، وہ یہی شکر یا اعتراف ہے۔ انسان خدائی انعامات کے ہجوم میں زندگی گزارتا ہے، لیکن وہ ناشکرا بنا رہتا ہے۔

اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان ہر ملی ہوئی چیز کو خدا کے بجائے خود اپنے خانے میں ڈال لیتا ہے۔ اس کو وجود کس طرح ملا؟ ماں باپ کے ذریعے۔

وہ دنیا میں زندہ کیسے ہے؟ اپنی تدبیروں کے ذریعے۔ اس نے ترقی کس طرح کی؟ اپنی ہوشیاری کے ذریعے۔

اس کے معاملات درست کیسے ہوئے؟ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ذریعے۔ اس نے عزت کا مقام کس طرح پایا؟ اپنے تعلقات کے ذریعے۔

وغیرہ۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ جن ملی ہوئی چیزوں کو انسان نے خدا سے پایا ہے، ان کو خدا سے منسوب یعنی اسوسییٹ کرنے کے بجائے، وہ ان کو کسی اور سے منسوب کر دیتا ہے۔ منسوب کرنے کی اسی غلطی کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان کے اندر خدا کے لیے شکر و اعتراف کا جذبہ نہیں پیدا ہوتا۔ خدا کے لیے شکر و اعتراف یہ نہیں ہے کہ آپ مختلف مواقع پر "الحمدللہ" اور "سبحان اللہ" کے الفاظ بول دیں۔

شکر ہمیشہ ایک دریافت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آدمی پہلے خدا کے محسن ہونے کی حقیقت کو دریافت کرتا ہے۔ یہ دریافت اس کے ذہن کو بیدار کرتی ہے۔ اس کے بعد ذہن کے اندر ایک پراسیس جاری ہوتا ہے۔

پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے سینے میں اللہ کے لیے شکر کا چشمہ جاری ہو جاتا ہے۔ آدمی کے اندر پیدا ہونے والی یہ داخلی کیفیت، شکر و اعتراف کے الفاظ میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ دریافت کی سطح پر جس نے شکر کو نہیں جانا، وہ اظہار کی سطح پر بھی شکر کی مطلوب عبادت نہیں کر سکتا۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 426۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.