Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Khaliq ki bepanaah azmat.

Urdu · 3 min

خالق کی بے پناہ عظمت۔ قرآن کی سورہ الرّاد میں یہ آیت آئی ہے: «اللّٰهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا» سورہ نمبر 13، آیت 2۔ یعنی اللہ ہے جس نے آسمان کو بلند کیا، بغیر ایسے ستون کے جو تمہیں نظر آئیں۔ اس آیت میں ایک عظیم کائناتی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔

یہ حقیقت اتنی زیادہ عظیم ہے کہ اس کو سوچ کر آدمی کا دل دہل اٹھے، اور اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ قدیم روایتی زمانے میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ چیزیں کسی مادی سہارے پر قائم ہیں، مثلاً ستارے کسی آسمانی چھت سے لٹکائے گئے ہیں، اور زمین کسی مادی سہارے پر قائم ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں جب دوربین ایجاد ہوئی اور خلا یعنی اسپیس کا دوربینی مشاہدہ کیا گیا، تو معلوم ہوا کہ ساری کائنات ایک خلا میں ہے۔ کہکشائیں، شمسی نظام، ستارے اور سیارے سب ایک عطا خلا میں، کسی سہارے کے بغیر گھوم رہے ہیں۔

یہ سارا معاملہ اتنے وسیع خلا میں ہو رہا ہے کہ انتہائی طاقتور دوربینوں کے ذریعے بھی ان کی حدوں کو دیکھا نہیں جا سکتا۔ کسی سہارے کے بغیر قائم یہ کائناتی نظام اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کا صرف قیاس کیا جا سکتا ہے۔ وسیع کائنات کے بارے میں جو اندازے کیے گئے ہیں، اور اس کے جو فوٹو حاصل کیے گئے ہیں، وہ اتنے زیادہ بڑے ہیں کہ ان کے فاصلوں کو عام اعداد کے ذریعے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ ان کو صرف سال نور یعنی لائٹ ایئرز کی اصطلاح میں بیان کیا جاتا ہے۔

لائٹ ایئر، اے یونٹ آف ایسٹرونومیکل ڈسٹنس، ایکول دا ڈسٹنس دیٹ لائٹ ٹراولز ان ون ایئر، اپروکسیمیٹلی سکس ملین مائلز۔ لامحدود خلا یعنی لمیٹ لیس اسپیس میں انتہائی وسیع کائنات کا معلق ہونا، خالق کی عظمت کا ناقابل بیان ثبوت ہے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 428۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.