خدا کی یاد۔ خدا کو یاد کرنا، بلاشبہ، سب سے بڑی عبادت ہے۔ مگر خدا کی یاد کا مطلب تسبیح کے دانوں پر اللہ اللہ پڑھنا نہیں ہے۔ خدا کو یاد کرنا یہ ہے کہ آدمی کا ذہن اتنا زیادہ جاگ اٹھے کہ ہر مخلوق کو وہ خالق سے ریلیٹ کر سکے۔
ہر چیز میں اس کو خدا کی یاد آنے لگے۔ ایک صاحب کا واقعہ ہے، وہ اپنے ساتھی کے ہمراہ شہر کی ایک سڑک سے گزرے۔ راستے میں کھلونے کی ایک دکان تھی۔ کھلونے کی اس دکان پر پہنچ کر وہ ایک لمحے کے لیے وہاں رکے۔
انہوں نے دکان کی طرف دیکھا تو اچانک ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ان کے ساتھی نے اس کا سبب پوچھا تو وہ اس کو ٹالنے لگے۔ آخر اصرار کے بعد انہوں نے بتایا کہ 2 برس پہلے میں اپنے 8 سال کے بچے کے ساتھ یہاں آیا تھا۔ بچے نے اس دکان سے ایک کھلونا خریدنے کے لیے کہا۔
اگلی صبح کو بچہ فیملی کے ساتھ ایک اور شہر میں جانے والا تھا۔ میں نے کہا کہ ابھی تو تم سفر پر جا رہے ہو۔ جب تم واپس آؤ گے تو یہ کھلونا میں تمہارے لیے خرید دوں گا۔ مگر واپسی میں کار کا ایکسیڈنٹ ہوا، اور میرا 8 سال کا بچہ سڑک پر ہی مر گیا۔
اس دکان پر کھلونے کو دیکھ کر مجھے اپنے بچے کی بات یاد آئی۔ میرا دل تڑپ اٹھا اور میں رونے لگا۔ مسکراہٹ شخص کے لیے وہ کھلونا، اپنے بیٹے کی یاد کے لیے، ایک پوائنٹ آف ریفرنس بن گیا۔ وہ اپنے بچے کو یاد کر کے رونے لگا۔
اسی طرح انسان کا اپنا وجود اور اس کے آس پاس کی ساری دنیا، خدا کی یاد کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس ہے۔ تخلیق کا ہر واقعہ اپنے خالق کی یاد دلا رہا ہے۔ اگر لوگ خدا کے معاملے میں اسی طرح سنجیدہ ہوں جیسا کہ وہ اپنی اولاد کے لیے ہوتے ہیں، تو دنیا کی ہر چیز ان کے لیے خدا کی یاد دہانی بن جائے۔ ہر چیز ان کی ربانی سوچ کو جگائے۔
وہ ہر چیز میں خدا کی جھلک دیکھیں، اور ہر چیز میں یادِ الٰہی کی غذا لینے لگیں۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 415۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.