جینے کے دو طریقے اس دنیا میں آدمی کے لیے جینے کے دو طریقے ہیں: ایک ہے خدا میں جینا، اور دوسرا ہے غیرِ خدا میں جینا۔ سچے اہلِ ایمان خدا میں جینے والے ہوتے ہیں، غیرِ خدا میں جینے والوں کو اہلِ دنیا کہا جا سکتا ہے۔ پہلے بھی جینے کے یہی دو طریقے تھے، اور آج بھی جینے کے یہی دو طریقے ہیں۔ ان کے درمیان ظاہر کے اعتبار سے فرق ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے ان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
خدا میں جینے والا کون ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی کے بارے میں سنجیدہ ہوں، وہ حق کے متلاشی یعنی ٹرتھ سیکر بنیں، پھر وہ خدا کو دریافت یعنی ڈسکور کریں، پھر وہ اس دریافت کے مطابق اپنی زندگی بنائیں۔ ان کا سوچنا، ان کا بولنا، ان کی عادتیں، ان کے معاملات، دوسروں کے ساتھ ان کا سلوک، سب خدا کے رنگ میں رنگ جائے۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو دنیا کی کسی چیز کو وہ درجہ دے دیں جو خدا کا درجہ ہوتا ہے۔
وہ اپنی مادی ترقی کے بارے میں سوچیں، اسی کے مطابق وہ اپنے تعلقات قائم کریں۔ ان کے لیے سب سے زیادہ قابلِ لحاظ چیز ان کی فیملی ہو، سیاسی معاملات ان کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہوں، اپنی قوم کے مفادات کو وہ سب سے زیادہ اہم سمجھتے ہوں، وہ دنیا کی عزت کو عزت اور دنیا کی ترقی کو ترقی سمجھیں۔ وہ دنیا کو پانے سے خوش ہوں اور دنیا سے محرومی ان کو غمگین بنا دے۔ ان کے حوصلوں اور تمناؤں کا مرکز دنیا کی چیزیں بنی ہوئی ہوں۔
اس قسم کے تمام لوگ غیرِ خدا میں جینے والے لوگ ہیں۔ خدا میں جینے والے لوگ خدا کے مطلوب بندے ہیں۔ آخرت میں وہ ابدی جنتوں میں داخل کیے جائیں گے۔ غیرِ خدا میں جینے والے لوگ خدا کے غیر مطلوب بندے ہیں۔
ایسے لوگ خدا کی رحمتوں سے محروم رہیں گے۔ پہلی قسم کے لوگ اہلِ جنت ہیں، اور دوسری قسم کے لوگ اہلِ جہنم۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 416۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.