اللہ ہمارے دلوں میں۔ مولانا عبدالباسط عمری قطر میں رہتے ہیں، وہ ہمارے دعوتی مشن سے وابستہ ہیں۔ وہ سی پی ایس نئی دہلی میں ہونے والے ہفتہ وار لیکچر کو بذریعہ انٹرنیٹ پابندی کے ساتھ سنتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے ساتھی مولانا محمد زکوان ندوی کو ٹیلی فون پر اپنا ایک تاثر بتایا۔
یہ تاثر انہی کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے: "عرب امارات کے حاکم و بانی، شیخ زاید ابن سلطان آل نہیان کا 2004 میں انتقال ہوا۔ " اس وقت عربی ریڈیو میں شیخ زاید کے اوپر ایک پروگرام آتا تھا۔ اس پروگرام کا عنوان تھا "زاید فی قلوبنا"، یعنی "شیخ زاید ہمارے دلوں میں"۔ اس پروگرام میں لوگ شیخ زاید کی شخصیت اور ان کے کارناموں کو بیان کرتے تھے۔
بعض لوگ اپنے تاثرات بیان کرتے وقت رونے لگتے تھے۔ اس واقعے کو لے کر اب میں سوچتا ہوں کہ اس دنیا میں ایسا کوئی شخص نظر نہیں آتا جو یہ کہے کہ اللہ ہمارے دلوں میں ہے۔ کوئی پروگرام ایسا دکھائی نہیں دیتا جس کا عنوان ہو "اللہ فی قلوبنا"، یعنی "اللہ ہمارے دلوں میں"۔ لوگ اس پروگرام میں خدا کی نعمتوں کا اور اللہ کی عظمتوں کا چرچا کریں، اور اللہ سے اپنی محبت کا اظہار کریں۔
مومن وہ ہے جو اللہ رب العالمین کو اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرے۔ جو شخص اللہ رب العالمین کو اس طرح اس کی عظمت اور قدرت کے ساتھ دریافت کرے گا، اس کا دل اللہ کی بڑائی سے بھر جائے گا۔ وہ اللہ کی بڑائی میں جینے لگے گا۔ اللہ اس کے دل کا سب سے بڑا سرمایہ بن جائے گا۔
کائنات کی ہر چیز اس کو اللہ کی یاد دلانے والی بن جائے گی۔ وہ سورج اور چاند میں اللہ کا جلوہ دیکھے گا۔ وہ پہاڑوں اور سمندروں میں اعلیٰ اللہ، یعنی "ونڈرز آف گاڈ" کا مشاہدہ کرے گا۔ انسان کی زندگی اور انسان کی موت بھی اس کو اللہ کی یاد دلانے والی بن جائے گی۔
جو اہل ایمان اس طرح اللہ کی عظمتوں میں جینے والے بن جائیں، ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کی زندگی اللہ کے رنگ میں رنگ جائے گی۔ وہ بولیں گے تو ان کے بول اللہ کی عظمت والے بول ہوں گے۔ وہ لکھیں گے تو ان کی تحریر اللہ کی عظمت کے تعارف کے ہم معنی ہوگی۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 414۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.