استثنائی رحمت کا معاملہ: انسان کا وجود خدا کی رحمت کا ظہور ہے۔ دنیا میں انسان کو تمام چیزیں بقدرِ ضرورت دی گئی ہیں۔ سورہ نمبر 14، آیت 34۔ جنت میں مزید اضافے کے ساتھ انسان کو یہ رحمت حاصل ہوگی۔
قرآن کے مطابق جنت میں انسان کو تمام چیزیں بقدرِ اشتہا—سورہ نمبر 41، آیت 31—دی جائیں گی۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ تمام عطیات کو خدا کی رحمت کی نسبت سے دریافت کرے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو اس کی ضرورت کی تمام چیزوں کا ملنا بھی خدا کی رحمت کا ظہور ہے، اور جنت میں تمام چیزوں کا بقدرِ اشتہا ملنا بھی خدا کی رحمت کا ظہور۔ موجودہ دنیا ضرورت کی سطح پر خدا کی رحمت کا تجربہ کرنے کی جگہ ہے۔
جنت وہ مقام ہے جہاں انسان enjoyment کی سطح پر خدا کی رحمت کا تجربہ کرے گا۔ انبساط یعنی pleasure انسان کی ایک استثنائی صفت ہے۔ ساری کائنات میں یہ صرف انسان ہے جس کو خصوصی طور پر یہ صلاحیت دی گئی ہے کہ وہ چیزوں سے enjoy کر سکے۔ enjoyment کی اس صفت کا تجربہ موجودہ دنیا میں انسان کو ابتدائی طور پر ہوتا ہے، اور جنت میں اس کا تجربہ انسان کو انتہائی طور پر ہوگا۔
انسان کے ساتھ خدا کی یہ رحمتِ خاص انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اسی رحمتِ خاص کی دریافت سے انسان کے اندر اپنے رب کے لیے حبِ شدید—سورہ نمبر 2، آیت 165—کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ معرفت کا سب سے اعلیٰ درجہ یہی ہے کہ انسان کو اپنے رب کے ساتھ محبت یعنی strong affection کی سطح پر تعلق پیدا ہو جائے۔ خدا سے اس حبِ شدید کے لیے ایک حقیقی بنیاد درکار ہے۔
یہ حقیقی بنیاد یہی ہے کہ انسان اپنے بارے میں خدا کی استثنائی رحمت کو دریافت کرے۔ یہی وہ دریافت ہے جس کے بعد کسی انسان کے اندر خدا کے لیے حبِ شدید کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس دریافت کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ اس کیفیت کے حصول کے لیے کارآمد نہیں ہو سکتا۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 413۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.