Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Hamd-e-khudawandi.

Urdu · 4 min

حمدِ خداوندی۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح کرے، یعنی اس کو اللہ کی معرفت اور اللہ کا ادراک اتنی گہرائی کے ساتھ ہو جائے کہ اس کی زبان سے بار بار خدا کے اعلیٰ اعتراف کا کلمہ نکلنے لگے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی بات آسمانوں اور زمینوں سے بھی مطلوب ہے۔ قرآن کے مطابق ساری کائنات عملاً اللہ کی حمد و تسبیح کر رہی ہے، سورہ نمبر 64 آیت 1۔

اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ مخلوقات سے اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑی جو چیز مطلوب ہے وہ حمد ہے، یعنی اعلیٰ اعتراف۔ انسان کے سوا اس کائنات کی دوسری تمام چیزیں ہر وقت غیر ملفوظ زبان، یعنی ان اسپوکن لینگویج میں، اللہ کی حمد میں مشغول ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے استثنائی طور پر زبان دی ہے۔

انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ملفوظ زبان، یعنی اسپوکن لینگویج میں، اللہ کی حمد کرنے لگے۔ وہ بقیہ کائنات کی غیر ملفوظ حمد کو ملفوظ زبان میں دہرائے۔ کائنات کی معنویت کو دیکھ کر انسان کی زبان سے گہرے اعتراف کا جو کلمہ نکلتا ہے، اسی کا نام حمد ہے۔ جب انسان اپنے بارے میں غور کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ اللہ نے مجھے احسن تقویم، سورہ نمبر 95 آیت 4 پر پیدا کیا ہے۔

اسی طرح جب انسان مصنوعاتِ خداوندی پر غور کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ ہر چیز کمال کے آخری درجے پر ہے۔ سورہ نمبر 27 آیت 88۔ یہ چیزیں آدمی کے اندر حمد کے چشمے جاری کر دیتی ہیں۔ آدمی اپنے پورے دل اور اپنے پورے دماغ کے ساتھ اللہ کا اعتراف کرنے لگتا ہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ "وَأَتَكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ" سورہ نمبر 14 آیت 34۔ یعنی اللہ نے انسان کو وہ سب کچھ دے دیا جس کا اس نے سوال کیا تھا۔ غور کیجئے تو اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سوال کے بغیر ہی اس نے انسان کو اس کی ضرورت کی تمام چیزیں دے دیں۔ اللہ کے ان ناقابلِ شمار انعامات کے بارے میں جب انسان سوچتا ہے تو اس کے بعد اس کی زبان سے اعتراف کے جو اعلیٰ کلمات نکلتے ہیں، انہی کا نام حمد ہے۔

یہی حمد وہ چیز ہے جو انسان کے لیے جنت میں داخلے کا ذریعہ بنے گی۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 412۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.