تجسیم کا نظریہ: بعض مذہبوں میں تجسیم، یعنی انکارنیشن، کا نظریہ پایا جاتا ہے۔ اس کو حلول یا وحدتِ وجود بھی کہتے ہیں۔ حلول یا تجسیم کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تجسد الإله في شكل بشري. العلمانية نشأتها وتطورها وآثارها في الحياة الإسلامية المعاصرة.
لسفر ابن عبدالرحمن الحوالي: یعنی خدا کا انسانی صورت میں مجسم ہونا۔ حلول یا تجسیم کا یہ تصور اصلًا ایک فلسفیانہ تصور ہے۔ قدیم فلاسفہ مانتے تھے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے، لیکن وہ خدا ایک قسم کی اسپرٹ ہے، اس کی کوئی شکل و صورت نہیں۔ یہ خدا جب ظاہر ہونا چاہتا ہے تو وہ کسی انسان کی صورت میں مجسم ہو جاتا ہے۔
ہندو مذہب میں اسی کو اوتار واد کہا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق خدا اصلًا ایک غیر شخصی خدا، یعنی امپرسنل گاڈ ہے۔ پھر وہ مختلف زمانوں میں کسی انسان کی صورت میں متشکل ہوتا ہے۔ اسی کو ہندو مذہب میں اوتار کہا جاتا ہے۔
اسلام میں حلول یا تجسیم کا یہ نظریہ سرتاسر باطل ہے۔ کچھ صوفیاء نے اس باطل تصور کو وحدتِ وجود یعنی مونزم کے نام پر اسلام میں داخل کیا، لیکن یہ یقینی طور پر ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ اسلام میں ایسے کسی نظریے کی کوئی گنجائش نہیں۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ سورہ نمبر 96 آیت 19: یعنی سجدہ کرو اور قریب ہو جاؤ۔
اس سے معلوم ہوا کہ خدا اور بندے کے درمیان قربت کا واقعہ پیش آتا ہے۔ یعنی بندہ اور خدا دونوں ایک نہیں ہو جاتے، بلکہ عملاً یہ ہوتا ہے کہ ایک بندہ جب حقیقی معنوں میں ساجد بن جاتا ہے تو وہ نفسیات کی سطح پر خدا کے قرب کا تجربہ کرتا ہے۔ خدا کے ساتھ اس کی سرگوشیاں ہونے لگتی ہیں۔ اس کو خدا کی موجودگی، یعنی پریزنس آف گاڈ، کا شدید تجربہ ہوتا ہے۔
حدیث کے الفاظ میں: وہ اس طرح عبادت کرنے لگتا ہے جیسے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ خدا اور بندے کے درمیان وحدت کا تصور نہیں۔ البتہ اسلام میں خدا اور بندے کے درمیان قربت کا تصور اپنے کامل ترین معنوں میں پایا جاتا ہے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 411۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.