خدا کی قربت پلاسٹک سرجری کی ایک اصطلاح ہے، اس کو آٹو گرافٹنگ کہا جاتا ہے۔ کسی آدمی کے جسم کے کسی حصے میں اگر گرافٹنگ کرنا ہو تو اس کے اپنے جسم ہی کے کسی حصے کی کوئی کھال، یعنی سکن، نکال کر اس مقام پر لگائی جاتی ہے۔ کسی دوسرے آدمی کے جسم کی کھال اس کام کے لیے کارآمد نہیں۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر ولیم بوائڈ نے لکھا ہے کہ "خودی غیر خودی کو قبول نہیں کرتی"۔
"Self will not accept not-self." آخرت میں سب سے زیادہ خوش نصیب وہ لوگ ہوں گے جن کو وہاں خدا کی ہم نشینی ملے، جو خدا کے پڑوس یعنی نیبرہڈ میں آباد کیے جائیں۔ یہ خوش قسمت انسان کون ہوگا؟ یہ وہ انسان ہوگا جو دنیا میں خدائی طرزِ زندگی اختیار کرے، جو خدا کی پسند کو اپنی پسند بنائے، جو خدا کے اخلاقی معیار پر پورا اترے۔ یہ اعلیٰ صفات صرف اس انسان کے اندر پیدا ہو سکتی ہیں جو اپنے شعور کو اتنا زیادہ ترقی دے کہ وہ خدا کی معرفت کا اعلیٰ ادراک کر سکے۔
موت سے پہلے کی زندگی تیاری کے دور یعنی پریپریٹری پیریڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ خدا کی پسند کو دریافت کرے، اور پھر اپنی پوری شخصیت کی تعمیر اس خدائی پسند کے مطابق کرے۔ اس کا سوچنا، اس کا بولنا، اس کے سلوک اور آداب، اس کا پورا لائف اسٹائل خدا کے رنگ میں رنگ جائے۔ اس معاملے میں انسان اتنا زیادہ حساس ہو کہ وہ کسی بھی ملاوٹ کو قبول نہ کرے۔
یہی ربانی شخصیت ہے۔ اور جن لوگوں نے اپنے اندر اس قسم کی ربانی شخصیت کی تشکیل کی، وہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی زندگی میں خداوند ذوالجلال کے پڑوس میں جگہ پائیں گے۔ "خودی غیر خودی کو قبول نہیں کرتی" اسی طرح خدا غیر خدائی انسان کو قبول نہیں کرے گا۔ آخرت کی ابدی دنیا میں صرف خدائی انسان ہوں گے جو خدا کے پڑوس میں جگہ پانے کی سعادت حاصل کریں گے۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 410۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.