Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Taalluq billah.

Urdu · 4 min

تعلق باللہ: خدا کو ایک خارجی حقیقت کے طور پر دریافت کرنا کافی نہیں ہے؛ خدا کے ساتھ گہرا تعلق صرف اس وقت قائم ہوتا ہے جب آدمی خدا کی رحمتوں کو اپنی ذات کی سطح پر دریافت کرے۔ اس معاملے کو ایک لفظ میں "Personalization of Blessings of God" یعنی "Personalization of Divine Blessings" کہا جا سکتا ہے۔ مثلاً ہر آدمی کو اپنے ماں باپ سے گہرا تعلق ہوتا ہے، کیونکہ آدمی یہ سوچتا رہتا ہے کہ میرے ماں باپ نے میرے ساتھ یہ کیا، اور میرے ماں باپ نے میرے ساتھ وہ کیا۔ اس قسم کی سوچ جب خدا کے بارے میں پیدا ہو جائے تو اسی کا نام تعلق باللہ ہے۔

موجودہ دنیا اپنے تمام اجزاء کے ساتھ خدا کے انعامات کا ظہور ہے۔ سوچنے والے انسان کے لیے اس کا ہر تجربہ اور ہر مشاہدہ خدا کے آفاقی انعامات کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دریافت بھی کافی ہے کہ انسان خدا کو اپنا منعیم سمجھے: وہ خدا کا شکر کرنے والا بندہ بن جائے۔ لیکن یہ احساس اس وقت بہت زیادہ شدید ہو جاتا ہے جب انسان ان نعمتوں کو اپنی ذات کی سطح پر دریافت کرے۔

پہلی دریافت آدمی کو یہ الفاظ دیتی ہے کہ "خدایا، تو نے انسان کے اوپر کتنا زیادہ انعام فرمایا ہے"۔ لیکن جب آدمی دوسری نوعیت کی دریافت کا تجربہ کرے تو وہ بے اختیار ہو کر پکار اٹھے گا کہ "خدایا، تو میرے اوپر کتنا زیادہ مہربان ہے! تو نے مجھ کو وہ نعمتیں بھی دیں جن کو میں جانتا تھا، اس کے علاوہ تو نے مجھ کو مزید وہ بے شمار نعمتیں عطا کر دیں جن کو میں نہ جانتا تھا اور نہ میں ان کا طلبگار بن سکتا تھا"۔ انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ اللہ سے گہرا تعلق ہے۔

یہ گہرا تعلق صرف گہری سوچ یعنی "Deep Thinking" کے ذریعے پیدا ہو سکتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ خدا کی نعمتوں کو اپنی ذات کی سطح پر دریافت کرے۔ اس قسم کی ذاتی دریافت ہی کسی آدمی کے اندر گہرا تعلق باللہ پیدا کر سکتی ہے۔ خدا سے اسی گہرے تعلق کو قرآن میں "حب شدید" کہا گیا ہے: "والذین آمنوا أشدّ حبّ لله" سورہ نمبر 2 آیت 165۔

کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 409۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.