Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Khuda aur banda.

Urdu · 4 min

خدا اور بندہ۔ علی ابن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے پاس سواری کے لیے ایک جانور لایا گیا۔ جب انہوں نے اپنا پاؤں اس کے رقاب میں رکھا تو کہا، "بسم اللہ"۔ پھر جب وہ اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو کہا، "الحمدللہ"۔

سبحان الذي سخر لنا هذا، وما كنا له مقرنين، وإنا إلى ربنا لمنقلبون. اس کے بعد انہوں نے تین بار اللہ کی حمد کی، اور تین بار اللہ کی تکبیر کی، پھر کہا، "سبحانک لا الہ الا انت، قد ظلمت نفسي فاغفر لي"۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی ہنس پڑے۔ میں نے پوچھا کہ اے امیرالمومنین، آپ کس بات پر ہنسے؟

انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے سوار ہوتے ہوئے وہی کہا جو میں نے کہا۔ پھر آپ ہنس پڑے۔ میں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، آپ کیوں ہنسے؟ آپ نے فرمایا، يعجب الرب تبارك وتعالى من عبده إذا قال رب اغفر لي ويقول علم عبدي أنه لا يغفر الذنوب غيري مسند احمد، رقم الحدیث 753۔

بندہ جب کہتا ہے کہ اے میرے رب، مجھے بخش دے، تو اللہ تعالی اس پر تعجب کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے اس کو جانا کہ میرے سوا کوئی بھی گناہوں کو بخشنے والا نہیں۔ رب اغفر لي یعنی "میرے رب، مجھے بخش دے" کہنا کوئی سادہ بات نہیں، یہ ایک عظیم ترین دریافت کے نتیجے میں ظاہر ہونے والا کلمہ ہے جو ایک مومن کی زبان سے نکل پڑتا ہے۔ یہ کلمہ کسی کی زبان سے اس وقت نکلتا ہے جب کہ وہ غیب کے پردے کو پھاڑ کر خدا کی موجودگی یعنی پریزنس آف گاڈ کو دریافت کرے۔

یہ آزادی کے باوجود اس بات کا اقرار ہے کہ میں اپنی آزادی کو بے قید استعمال کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ یہ حشر کو دیکھے بغیر حشر کے واقعے پر یقین لانا ہے۔ یہ اعمال کے اخروی نتائج کی حقیقت کا اس وقت اقرار کرنا ہے جب کہ ابھی وہ ظاہر نہیں ہوئے۔ یہ خدا کے ظہور سے پہلے خدا کے جلال و جبروت کے آگے جھک جانا ہے۔

یہ کلمہ معرفت کا کلمہ ہے، اور معرفت بلاشبہ اس دنیا کا سب سے بڑا عمل ہے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 405۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.