ایک حدیثِ قدسی، ایک حدیثِ قدسی ان الفاظ میں آئی ہے: قال الله عز وجل: "إذا أحب عبدي لقائي أحببتُ لقاءه" فتح الباری، بشرح صحیح البخاری، جلد 11، صفحہ 366۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب میرے کسی بندے کا یہ حال ہوتا ہے کہ مجھ سے ملاقات اس کے لیے محبوب چیز بن جاتی ہے، تو میرے لیے بھی اس بندے سے ملاقات کرنا محبوب ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں ہے، یہ ایک معلوم حقیقت کا اظہار ہے۔ یہ بندے کی طرف سے دریافت کا واقعہ ہے، اور اللہ کی طرف سے دریافت کی قدردانی کا واقعہ۔
اصل یہ ہے کہ ایک بندہ جب غور و فکر کرتا ہے، پھر اس کے نتیجے میں جب اس کو اپنے رب کی دریافت ہوتی ہے، جب وہ اپنے بارے میں اللہ کی بے پایاں نعمتوں کو یاد کرتا ہے، تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے بے پناہ محبت کرنے لگتا ہے۔ ایسے بندے کے لیے مقدر ہے کہ وہ اللہ کا پسندیدہ بندہ بن جائے۔ دنیا سے لے کر آخرت تک اس کو اللہ کی خصوصی رحمت ملتی رہے۔ کسی بندے کے دل میں اللہ سے محبت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ وہ اللہ کو اپنے منعمِ حقیقی کی حیثیت سے دریافت کرے، جب کہ وہ نعمتوں کے ساتھ اس کے منعم کی بھی معرفت حاصل کر لے۔
یہی وہ بندہ ہے جو اللہ کا مطلوب بندہ ہے۔ یہی وہ بندہ ہے جس کو آخرت میں خدا سے ملاقات کی خوش نصیبی حاصل ہوگی۔ اور یہی وہ بندہ ہے جس کو خدا کے پڑوس میں ابدی طور پر بسایا جائے۔ اسی ابدی پڑوس کا دوسرا نام جنت ہے۔
اللہ سے محبت کا سرچشمہ اللہ کی نعمتوں کی دریافت ہے۔ اسی دریافت سے انسان کے اوپر آخرت کی اعلیٰ نعمتوں کے دروازے کھلتے ہیں۔ اسی دریافت سے آدمی کے اندر خدا کے لیے اعلیٰ شکر اور اعترافِ کامل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی اعترافِ کامل کے جذبے کا نام محبتِ الہی ہے۔
انسان کی طرف سے محبت، دریافت کا نتیجہ ہے، اور اللہ کی طرف سے محبت، قدردانی کا نتیجہ۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 404۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.