Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Qabil-e-rashk afraad.

Urdu · 3 min

قابلِ رشک افراد۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ سنن البیہقی کے الفاظ یہ ہیں: ألا أخبركم عن أقوامٍ ليسوا بأنبياء ولا شهداء، يغبطهم يوم القيامة الأنبياء والشهداء بمنازلهم من الله عز وجل، على منابرٍ من نورٍ يكونون عليها. قالوا: من هم؟

قال: الذين يحببون عباد الله إلى الله، ويحببون الله إلى عباده، وهم يمشون على الأرض نصحاً. شعب الإيمان، رقم الحدیث 405۔ یعنی: کیا میں تم کو بتاؤں ایسے لوگوں کے بارے میں جو نہ پیغمبر ہوں گے اور نہ شہید، لیکن قیامت کے دن پیغمبر اور شہید ان پر رشک کریں گے؟ ان کے اس درجے کی وجہ سے جو اللہ کے یہاں ان کو حاصل ہوگا، وہ وہاں نور کے ممبروں پر ہوں گے۔

پوچھا گیا کہ وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو اللہ کے بندوں کو اللہ سے محبت کرنے والا بنائیں، اور ان کو اس قابل بنائیں کہ اللہ ان سے محبت کرے، اور وہ زمین پر چلے لوگوں کا ناصح، یعنی ولویشر بن کر۔ انبیاء کے لیے قابلِ رشک بننے والے یہ کون لوگ ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کو اس طرح دریافت کریں کہ اللہ ان کا محبوب بن جائے۔

وہ اللہ کی محبت میں جینے لگیں۔ اللہ سے بڑی کوئی ذات نہیں۔ اس لیے اللہ کی محبت سے بڑا کوئی عمل نہیں ہو سکتا۔ جب کسی انسان کا یہ حال ہوگا تو وہ دوسروں کو بھی وہی اعلیٰ ترین چیز دینے کی کوشش کرے گا جو اس نے خود اپنے لیے پائی ہے۔

وہ اپنی ساری توانائی کو استعمال کر کے یہ کوشش کرے گا کہ دوسرے لوگ بھی خدا کو اس کی اس اعلیٰ حیثیت میں دریافت کریں، جبکہ خدا کی معرفت ان کے دلوں میں اتر جائے۔ جبکہ خدا ان کے لیے وہ ہستی بن جائے جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرتے ہوں۔ جبکہ خدا کی ذات ان کے لیے وہ اعلیٰ ہستی بن جائے جو ان کے تمام قلبی جذبات کا مرکز ہو۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو اپنا محبوب بنا لیں، تو ایسے لوگ خود بھی اللہ کے محبوب بندے بن جاتے ہیں۔

یہی ایمان کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 403۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.