معرفت کے دو درجے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے رب نے مجھے پیشکش کی کہ وہ مکے کی وادی کو میرے لیے سونا بنا دے۔ میں نے کہا کہ اے میرے رب، نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میں ایک دن سیر ہو کر کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔
پھر جب مجھے بھوک لگے تو میں تجھ سے تضرع کروں اور تجھ کو یاد کروں۔ اور جب میں شکم سیر ہوں تو تیری حمد کروں اور تیرا شکر کروں۔ فإذا جعتُ تضرعتُ إليك وذكرتُك وإذا شبعتُ حمدتُك وشكرتُك. سنن الترمذی رحمہ الحدیث 2347۔
اس حدیث سے پیغمبر کی معرفت کا درجہ معلوم ہوتا ہے۔ پیغمبر کی معرفت شعور کی سطح پر ہوتی ہے۔ پیغمبر کسی دباؤ کے بغیر، ذاتی ارادے کے تحت، وہ فیصلہ کرتا ہے جس کی ایک مثال مذکورہ روایت میں نظر آتی ہے۔ معرفت کے اس درجے کو ایک لفظ میں "اختیاری عجز" کہا جا سکتا ہے۔
معرفت کا دوسرا درجہ وہ ہے جب کہ اللہ اپنے کسی بندے کے ساتھ یہ رحمت فرمائے کہ اس کو مجبورانہ حالات میں ڈال دے، اور اس طرح اضطراری طور پر اس کو حمد و شکر کا تجربہ کرائے۔ غالباً یہی وہ بات ہے جس کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: إن الله إذا أحب قومًا ابتلاهم. سنن الترمذی رحمہ الحدیث 23623۔ یعنی جب اللہ کسی سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔
گویا کہ پیغمبر کی معرفت اختیارانہ سطح پر ہوتی ہے، اور غیر پیغمبر کی معرفت مجبورانہ سطح پر۔ فانی بدایونی وفات 1940۔ ایک عارف شاعر تھے، ان کا کلام دوسرے شاعروں سے بہت مختلف ہے۔ فانی بدایونی کا حسبِ ذیل شعر غالباً معرفت کی اسی دوسری قسم کو بتاتا ہے: "میری ہوس کو عیشِ دو عالم بھی تھا قبول، تیرا کرم کہ تو نے دیا دل دکھا ہوا۔
" کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 402۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.