مومنِ قوی، مومنِ ضعیف؛ انسانوں میں قوی انسان بھی ہوتے ہیں اور ضعیف انسان بھی، ذہنی اعتبار سے بھی اور جسمانی اعتبار سے بھی۔ تخلیق کا یہی فرق اہلِ ایمان میں بھی پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ مومنِ قوی ہوتے ہیں اور کچھ لوگ مومنِ ضعیف۔ اس فرق کے بارے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: "المؤمن القوي خيرٌ وأحبَّ إلى الله من المؤمن الضعيف، وفي كلٍّ خيرٌ." صحیح مسلم 4823۔
یعنی اللہ کے نزدیک ضعیف مومن کے مقابلے میں قوی مومن زیادہ بہتر اور زیادہ محبوب ہے، اور دونوں میں سے ہر ایک کے لیے خیر ہے۔ خیر کے معنی بھلائی کے ہوتے ہیں۔ یہاں یہ سوال ہے کہ دونوں ہی قسم کے مومن میں خیر کے پائے جانے کا مطلب کیا ہے؟ اصل یہ ہے کہ دونوں کا خیر دو مختلف معنی میں ہے۔
مومنِ قوی کا خیر یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ صلاحیت دے کر پیدا کیا، اور مومنِ ضعیف کا خیر یہ ہے کہ کمتر صلاحیت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس کی تلافی کے لیے زیادہ نصرت مقدر کر دی۔ ظاہر ہے کہ انسانی صلاحیت کے مقابلے میں خدائی نصرت زیادہ بڑی ہے۔ اس لیے مومنِ ضعیف اگر حقیقی طور پر ایمان کے راستے پر چلے تو وہ خدا کی خصوصی نصرت کی بنا پر مومنِ قوی سے بھی زیادہ بڑا کام کر سکتا ہے۔ یہ مومنِ ضعیف کے لیے بلاشبہ ایک عظیم خوشخبری ہے۔
ضعف کسی آدمی کے لیے اپنے عجز یعنی helplessness کی دریافت کا سبب بنتا ہے۔ عجز ہی وہ مقام ہے جہاں کوئی شخص اپنے آپ کو کھڑا کر سکتا ہے۔ خدا کامل معنوں میں قادرِ مطلق یعنی All-Powerful ہے۔ خدا کی قدرت اس کائنات کا آخری حد تک احاطہ کیے ہوئے ہے۔
کوئی بھی مقام خدا کی قدرت سے باہر نہیں۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے اس دنیا میں کھڑے ہونے کی جگہ صرف ایک ہے، اور وہ عجز ہے۔ خدا کے ساتھ انسان کی نسبت صرف عجز کی سطح پر قائم ہوتی ہے۔ عجز ہی خدا اور انسان کے درمیان نقطۂ ملاقات یعنی meeting point ہے۔
ضعیف انسان اپنے اس عجز کو دریافت کرتا ہے۔ اس لیے صرف ضعیف انسان اس قابل بنتا ہے کہ خدا اپنی نصرت اس پر انڈیل دے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 401۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.