محبت، اتباع۔ قرآن کی سورہ البقرہ میں اہلِ ایمان کی صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ سورہ نمبر 2، آیت 165۔ یعنی جو ایمان والے ہیں، وہ اللہ سے بہت زیادہ محبت رکھنے والے ہیں۔ محبت کے لفظی معنی ہیں شدید میلان، یعنی اسٹرانگ افیکشن۔
مومن وہ ہے جس کے اندر اپنے رب سے اس قسم کا گہرا قلبی تعلق پیدا ہو جائے۔ کچھ لوگ اس آیت میں محبت کو اتباع کے معنی میں لیتے ہیں۔ اس تفسیر کے لیے وہ اس قرانی آیت کا حوالہ دیتے ہیں: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ سورہ نمبر 3، آیت 31۔ یعنی اے پیغمبر، کہو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو تم میرا اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔
محبت کو اتباع کے معنی میں لینے کے لیے یہ حوالہ درست نہیں۔ قرآن کی یہ آیت محبتِ الہی کی تعریف یعنی ڈیفینیشن کے طور پر نہیں، وہ صرف محبتِ الہی کے ایک تقاضے کو بتا رہی ہے۔ یعنی اگر تم کو اللہ سے محبت ہے تو اس کا تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ تم اللہ کے رسول کے متبع، یعنی فالوور بن جاؤ۔ محبتِ الہی ایک اعلیٰ ترین کیفیت ہے۔
محبتِ الہی کا سرچشمہ اللہ کے انعامات کا ادراک ہے۔ جب ایک شخص اللہ کو اپنے منیمِ کامل کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی محبت میں غرق ہو جاتا ہے۔ اللہ کی محبت اس کے قلب و روح کا سب سے بڑا سرمایہ بن جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کچھ جو ہمیں اس دنیا میں ملا ہوا ہے، اپنے وجود سے لے کر خارجی اشیاء تک، سب کا سب اللہ کا عطیہ ہے۔
حتیٰ کہ لذت اور مسرت کے جذبات بھی اللہ کا عطیہ ہیں۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری ہے کہ انسان کو تمام چیزوں سے زیادہ اللہ سے محبت ہو۔ اللہ سے اس کو والہانہ تعلق پیدا ہو جائے۔ اللہ اس کے تمام جذبات اور کیفیات کا مرکز بن جائے۔
محبت ایک اعلیٰ ترین نفسیاتی کیفیت کا نام ہے۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو کسی ایک لفظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ اور اس کے رسول کا اتباع اس محبت کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ اتباع کو ہرگز محبت کی تعریف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 406۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.