محبتِ الہی، عشقِ الہی۔ قرآن اور حدیث میں اللہ کے لیے محبت کا ذکر ہے، لیکن قرآن اور حدیث میں اللہ کے لیے عشق کا ذکر نہیں۔ عشقِ الہی کا تصور بعد کو عباسی دور میں صوفیاء کے یہاں پیدا ہوا۔ یہ دراصل غلو، یعنی ایکسٹریمزم کا ظاہرہ، یعنی فینامینن ہے۔
صوفیاء نے برِ بنائے غلو یہ نظریہ قائم کیا کہ خدا کے لیے عبادت سرتاسر بے غرض ہونا چاہیے، جنت کی حرص یا جہنم کے خوف سے نہیں۔ اسی سے صوفیانہ نظریے کی بنا پر عشق کا تصور پیدا ہوا۔ عشق دراصل محبت برائے محبت، یعنی love for the sake of love کا نام ہے۔ عشق کے اس تصور کا ماخذ خود صوفیاء کا اپنا تصورِ عبادت تھا، نہ کہ اسلام کا تصورِ عبادت۔
اللہ سے محبت اسلام میں اعلیٰ ترین مطلوب چیز ہے۔ یہ محبت ذاتِ خداوندی سے عاشقانہ تعلق کی بنا پر نہیں ہوتی۔ اسلام کا تصورِ محبت تمام تر انعاماتِ الہی، یعنی divine blessings کی بنیاد پر قائم ہے۔ انسان موجودہ دنیا میں خدا کے بے شمار انعامات کا تجربہ کرتا ہے۔
یہ انعامات آدمی کے اندر منعم، یعنی giver کے لیے، گہرا قلبی تعلق پیدا کر دیتے ہیں۔ اسی گہرے قلبی تعلق کا نام محبتِ الہی ہے۔ عشق گویا کہ physical love کا نام ہے، اور اس کے مقابلے میں محبت گویا کہ spiritual love کا نام۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان خدا کو اس کے انعامات کے واسطے سے دریافت کرتا ہے۔
انعام کی یہ دریافت، یعنی discovery، فطری طور پر آدمی کے اندر منعم کے لیے اعتراف، یعنی acknowledgement کا ذہن پیدا کرتی ہے۔ عبادتِ الہی کی اصل یہی اعتراف، یعنی acknowledgement ہے۔ حمد اور شکر اور ذکر جیسے الفاظ، اصلًا اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی اعتراف کے مختلف نام ہیں۔ اس اعتراف میں جب والہانہ قلبی جذبات شامل ہو جائیں تو اسی کا نام محبت ہے۔
محبت فطری محبت کا نام ہے، اور عشق غلو آمیز محبت کا نام۔ اور قرآن اور حدیث کے واضح نصوص کے مطابق غلو اسلام میں نہیں، لا غلو وف الاسلام۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 390۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.