محبتِ الہی، اعترافِ الہی۔ اللہ سے محبت ایمان کا جز ہے؛ اللہ سے محبت تمام الہامی مذاہب کی تعلیمات کا حصہ رہا ہے، مثلاً موجودہ بائبل، عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید دونوں میں آیا ہے کہ خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔ You shall love the Lord your God with all your heart, with all your soul, and with all your mind. میتھیو چیپٹر نمبر 22، ورس نمبر 37۔
ڈیوٹرانومی چیپٹر نمبر 6، ورس نمبر 5۔ محبتِ الہی کسی پراسرار چیز کا نام نہیں؛ محبتِ الہی دراصل اعترافِ الہی کا اعلیٰ درجہ ہے۔ ایک شخص جب اللہ کی دریافت کرتا ہے، جب وہ اللہ کی نعمتوں سے شعوری طور پر واقف ہوتا ہے، جب وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا وجود اور اس کی پوری زندگی اللہ کے انعامات، یعنی blessings، سے بھری ہوئی ہے، اس وقت فطری طور پر اس کے اندر اللہ کے لیے شدید محبت، یعنی strong affection، کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی حبِ شدید کا نام محبتِ الہی ہے۔
محبتِ الہی رب السماوات والارض سے محبت کا نام ہے۔ ایسی محبت کسی آدمی کے لیے صرف جذباتی تعلق کا نام نہیں ہوتا؛ اس کے ذریعے آدمی کی شخصیت میں ایک انقلاب پیدا ہو جاتا ہے۔ محبتِ الہی آدمی کے اندر تمام اعلیٰ صفات پیدا کرتی ہے، مثلاً مثبت سوچ، یعنی positive thinking۔ انسانوں کے لیے شفقت، توکل علی اللہ، اور اعتماد اور حوصلہ وغیرہ۔
محبت اللہ کی نسبت سے معرفت کا اعلیٰ درجہ ہے۔ انسان کی نسبت سے معرفت آدمی کے اندر انسان دوست کردار، یعنی human friendly behavior، پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ دعوت الی اللہ بھی محبتِ الہی کا ایک اظہار ہے۔ جب کسی انسان کو اللہ سے محبت کا تعلق قائم ہوتا ہے تو فطری طور پر وہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچائے، یہاں تک کہ اللہ کا کوئی بندہ اپنے رب کی ابدی رحمتوں سے محروم نہ رہے۔
کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 391۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.