محبتِ الہی، اطاعتِ الہی۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ سے محبت کا مطلب اللہ کی اطاعت ہے۔ اس کا سبب وہ یہ بتاتے ہیں کہ اللہ کی ذات ایک غیر مری ذات، یعنی invisible being ہے، اور ایک غیر مری ذات سے محبت جیسا جذباتی تعلق، یعنی emotional attachment، پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس کی صرف اطاعت ہی کی جا سکتی ہے۔
یہ اطاعت بِواسطۂ احکام ہوگی، جو ہم کو قرآن اور حدیث کے ذریعے معلوم ہوئے ہیں۔ یہ بات صحیح نہیں، کیونکہ جو بات اللہ سے محبت کے بارے میں کہی جاتی ہے، وہی بات اللہ پر ایمان سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ اللہ پر ایمان اگر یؤمنون بالغیب کی صورت میں ہو سکتا ہے، تو اللہ سے محبت بھی یحبون بالغیب کی صورت میں یقینی طور پر ممکن ہے۔ اصل یہ ہے کہ ایمان کا معاملہ ہو یا محبت کا معاملہ، دونوں اللہ کی نسبت سے مطلوب ہیں، نہ کہ کسی عام نسبت سے۔
ایمان کا مطلب عقیدہ ہے۔ عقیدے کا لفظ ایک مری چیز، یعنی visible entity کے لیے بھی بولا جا سکتا ہے۔ اس وقت عقیدہ اپنے عام لغوی مفہوم میں ہوگا۔ لیکن جب عقیدے کا لفظ اللہ کے لیے بولا جائے، تو وہ نسبت کے بدلنے کی وجہ سے مافوق عقیدہ، یعنی high belief کے معنی میں ہوگا۔
اسی طرح محبت کا لفظ جب اللہ کی نسبت سے استعمال کیا جائے، تو وہ مافوق محبت، یعنی high love کے ہم معنی ہو جائے گا۔ انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی سے انسان کا جذباتی تعلق حقیقتاً دیکھ کر قائم نہیں ہو سکتا، بلکہ وہ فکر کے ذریعے تصوراتی سطح، یعنی conceptual level پر قائم ہوتا ہے، خواہ بظاہر وہ کوئی مری چیز ہو یا غیر مری چیز۔ اس سے انسان کا تعلق ہمیشہ تصوراتی سوچ کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔ انسان کی نفسیات کے اعتبار سے، عقیدہ تصوراتی عقیدہ، یعنی conceptual belief کا نام ہے۔
تصوراتی سطح پر ہی کسی انسان کو اللہ کی معرفت، یعنی realization of God، حاصل ہوتی ہے۔ تصوراتی سطح پر ہی کوئی انسان اللہ سے محبت کرنے والا بنتا ہے، نہ کہ مشاہداتی سطح پر۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 389۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.