Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Alhubbu lillah.

Urdu · 4 min

الحب للہ۔ انسان کے اندر سب سے زیادہ طاقتور جذبہ محبت کا جذبہ ہے۔ انسان جب کسی چیز کو اپنا سب سے بڑا کنسرن، یعنی سپریم کنسرن بنائے، تو اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے محبت کے جذبات اس چیز سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ مذہبی اصطلاح میں اسی کو معبود بنانا کہا جاتا ہے۔

جس چیز سے آدمی سب سے زیادہ محبت کرے، وہی اس کا معبود ہے، خواہ وہ اس کے لیے محبت کا لفظ بولے یا نہ بولے۔ ایمان باللہ یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اس طرح دریافت کرے کہ اللہ ہی سے اس کو سب سے زیادہ محبت ہو جائے۔ اسی کو قرآن میں "الذین آمنوا أشدّ حبّا لله" سورۃ نمرود آیت 165 کہا گیا ہے۔ جو آدمی اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے لگے، وہی وہ شخص ہے جس نے اللہ کو اپنا معبود بنایا۔

جس آدمی کے اندر اللہ کے لیے حقیقی محبت پیدا ہو جائے، اس کے اندر سے یہ محبت مختلف شکلوں میں ظاہر ہونے لگے گی۔ ظہور کی انہی مختلف شکلوں کو قرآن میں حمد اور شکر اور ذکر جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ محبت ہی دراصل تعلق باللہ کی اصل ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ "الحمد للہ" کا مطلب ہے "الحب للہ"۔

"الشکر للہ" کا مطلب ہے "الحب للہ"۔ اسی طرح اللہ کے لیے ذکر کثیر کا مطلب ہے اللہ کے لیے محبت کثیر۔ قرآن میں آیا ہے کہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ سورۃ نمرود 13 آیت 28۔

اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ صرف اللہ کی محبت ہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے انسان کو حقیقی معنوں میں اطمینانِ قلب عطا ہوتا ہے۔ "Love of God alone gives the peace of mind." اللہ پر ایمان اللہ کی دریافت، یعنی ڈسکوری سے شروع ہوتا ہے۔ اسی دریافت کو قرآن میں معرفت کہا گیا ہے۔ حقیقی معرفت وہ ہے جو آدمی کے پورے وجود میں شامل ہو جائے۔

جب ایسا ہوتا ہے تو اسی سے وہ تمام اعلیٰ مظاہر پیدا ہوتے ہیں جن کو محبت اور شکر اور ذکر جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 388۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.