Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Aqeeda-e-khuda aur asmaye husna.

Urdu · 3 min

عقیدۂ خدا اور اسمائے حسنیٰ: خدا کا عقیدہ انسان کے لاشعور میں پیوست ہے؛ انسان اپنے فطری تقاضے کے تحت اس لاشعور کو شعور میں لانا چاہتا ہے۔ اسمائے حسنیٰ کا تصور انسان کی اسی فطری ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ اسمائے حسنیٰ کی حیثیت ایک فکری ماڈل کی ہے: یہ انسان کے اپنے فریم ورک کے مطابق خدا کی ہستی کو اس کے لیے قابلِ فہم بناتا ہے۔ مختلف مذاہب میں خدا کی ہستی کے مختلف ماڈل بتائے گئے ہیں؛ ان میں سے دو ماڈل زیادہ معروف ہیں: آکار ماڈل اور نِراکار ماڈل۔

مگر یہ دونوں انسانی فریم ورک کے اعتبار سے انسان کے لیے قابلِ فہم ماڈل نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ماڈل صرف کاغذ میں یا لفظوں میں پائے جاتے ہیں، وہ حقیقی معنوں میں انسانی شعور کا حصہ نہ بن سکے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دونوں ماڈل انسان کی نسبت سے ناقص ماڈل ہیں: آکار ماڈل، دوسرے لفظوں میں بت کا ماڈل، ایک ایسے خدا کا تصور دیتا ہے جس کا بظاہر ایک فارم تو ہے مگر وہ مکمل طور پر بے صفاتی یعنی powerless ہے۔ دوسری طرف نِراکار ماڈل بظاہر ایک طاقت ہے، مگر یہ طاقت کششِ عرض یعنی gravity کی طرح بے صفاتی یعنی attributeless ہے۔

اس طرح یہ دونوں ہی ماڈل انسان کے معلوم فریم ورک کی نسبت سے مبہم ماڈل ہیں؛ وہ انسانی فطرت کا جواب فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ اسمائے حسنیٰ دراصل اسی خلا کو پر کرتے ہیں۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 350۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.