← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Asmaaye husna aur digar mazaahib.
Urdu · 7 min
اسمائے حسنیٰ اور دیگر مذاہب۔ اسمائے حسنیٰ کا مطالعہ تاریخی نقطۂ نظر سے کیا جائے تو ایک انوکھی چیز دریافت ہوگی، وہ یہ کہ اسمائے حسنیٰ کا تصور، یعنی کانسیپٹ، اسلام کے سوا کسی اور موجودہ مذہب یا کسی اور موجودہ اعتقادی نظام میں نہیں پایا جاتا۔ یہ اسلام کی استثنائی صفت ہے کہ اس کے اندر خدا کے بارے میں اسمائے حسنیٰ کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔
اگر آپ اسلام اور دوسرے مذاہب کا تقابلی مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ بے حد سنگین بات ہے۔ چنانچہ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب میں انسان اور خدا کے درمیان گہرا تعلق سرے سے نہیں پایا جاتا۔ ہر دوسرے مذہب میں خدا کی حیثیت صرف ایک علامتی ہستی، یعنی symbolic God، کی ہے، نہ کہ ایک حقیقی اور زندہ خدا کی۔ مثال کے طور پر یہودی مذہب کو لیجیے: یہودی اعتقادیات کا ماخذ بائبل، یعنی عہد نامہ قدیم ہے۔
آپ اس کتاب کا مطالعہ کریں تو اس میں اسمائے حسنیٰ کی نوعیت کا خداوندی تعارف موجود نہیں۔ ایک جگہ خدا کو بتاتے ہوئے اس کے بارے میں "میں جو ہوں سو میں ہوں" کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سلسلے میں بائبل کے اصل الفاظ اس طرح ہیں: "تب موسیٰ نے خدا سے کہا، جب میں بنی اسرائیل کے پاس جا کر ان کو کہوں کہ تمہارے باپ دادا کے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے، اور وہ مجھے کہیں کہ اس کا نام کیا ہے، تو میں ان کو کیا بتاؤں؟ خدا نے موسیٰ سے کہا، میں جو ہوں سو میں ہوں، سو تو بنی اسرائیل سے یوں کہنا کہ میں جو ہوں نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔
" (خروج باب 14، باب 3، وصف 13-14) اسی طرح مسیحیت کا مذہبی ماخذ وہ کتاب ہے جس کو نیا عہد نامہ، یعنی بائبل، کہا جاتا ہے۔ اس نئے عہد نامے میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح جب صلیب پر چڑھائے گئے تو ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: "إِلَهِ إِلَهِ لِمَا شَبَخْتَنِي" یعنی: اے میرے خدا، اے میرے خدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ "My God, my God, why have you forsaken me? " (مارک باب نمبر 15، وصف نمبر 34) مسیحی چرچ کے عقیدے کے مطابق حضرت مسیح کا صولی پر چڑھ کر مصلوب ہونا کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا۔
وہ مسیحی چرچ کے عقیدے کے مطابق ایک خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔ کفارہ مسیح کے عقیدہ، یعنی اٹونمنٹ، کے مطابق خدا نے حضرت مسیح کو اسی خاص مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا تھا کہ وہ انسانی گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صولی پر چڑھ جائیں، اور انہوں نے بخوشی ایسا کیا۔ مسیحی چرچ کے مبینہ عقیدے کے مطابق خدا، تثلیث کا ایک حصہ ہے۔ مسیحی عقیدے کو ٹرینٹی کے لفظ میں بیان کیا جاتا ہے، یعنی تین میں ایک اور ایک میں تین۔
اس عقیدے کے مطابق حضرت مسیح عام انسان نہیں تھے، بلکہ وہ خدا کا ایک حصہ تھے۔ ایسی حالت میں حضرت مسیح کا مذکورہ واقعہ، انسان کے لیے خدا کے معاملے میں یقین کا سرچشمہ نہیں بن سکتا۔ اس واقعے میں خدا خود بے بس ہو کر فریاد کر رہا ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو ایک متروک وجود سمجھتا ہے۔
اس کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو وقت کے حکمرانوں سے محفوظ رکھ سکے۔ ایسا خدا دوسرے انسانوں کے لیے کس طرح اعتماد کا سرچشمہ بن سکتا ہے؟ انسان کو ایک ایسا خدا چاہیے جو اس کے لیے اعتماد کا ذریعہ بن سکے۔ مگر مسیحیت انسان کو ایک ایسے خدا کا تصور دیتی ہے جس میں خدا خود ہی بے بس دکھائی دے رہا ہے۔
اس کے بعد ان مذاہب کو لیجیے جن کو آرین مذاہب کہا جاتا ہے، یعنی ہندوازم وغیرہ۔ ان مذاہب میں پرسنل گاڈ کا تصور موجود نہیں۔ ان مذاہب میں اگرچہ خدا کا لفظ استعمال ہوتا ہے، مگر وہ صرف ایک علامتی لفظ ہوتا ہے، کیونکہ ان مذاہب میں عقیدہ خدا کے تشخص کے لیے کسی مستقل وجود کا کوئی تصور نہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، آرین مذاہب میں خدا کو نراکار، یعنی فارم لیس گاڈ، مانا جاتا ہے۔
ان کے عقیدے کے مطابق خدا نرگن ہے، یعنی اس کی کوئی صفت نہیں۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ خدا کو ایک متعین ہستی کے طور پر اپنے ذہن میں لائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو مذہب میں خدا کی کوئی عبادت گاہ نہیں ہوتی۔ ان کے یہاں یا بتوں کی پرستش ہوتی ہے یا گروؤں کی، کیونکہ بت یا گرو کا تشخص ان کو ممکن دکھائی دیتا ہے، لیکن خدا کا تشخص ان کے لیے قابل تصور نہیں ہوتا۔
کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 348۔