Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Asmaye husna aur ism-e-aazam.

Urdu · 3 min

اسمائے حسنیٰ اور اسم اعظم۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ "ولله الأسماء الحسنى" سورہ نمبر 7، آیت 180۔ یعنی اللہ ہی کے لیے ہیں اچھے نام، یعنی best names۔ یہ بات قرآن میں 4 مقامات پر کہی گئی ہے: سورہ نمبر 7، آیت 180؛ سورہ نمبر 17، آیت 110؛ سورہ نمبر 20، آیت 8؛ سورہ نمبر 59، آیت 24۔

یہاں "نام" سے مراد نام نہیں ہیں، بلکہ صفات یعنی attributes ہیں۔ یعنی تمام اچھی صفتیں خدا ہی کے لیے ہیں۔ اسمائے حسنیٰ کی تعداد کیا ہے؟ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اسمائے حسنیٰ کی تعداد 99 ہے۔

بعض علماء نے اسمائے حسنیٰ کی تعداد میں اضافہ کیا ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ اسمائے حسنیٰ کی تعداد 1000 تک ہے (تفسیر ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 269)۔ مگر اس معاملے میں تعداد کی حیثیت اضافی ہے۔ یہ تعداد دراصل انسانی فرہنگ یا مجموعۂ الفاظ یعنی vocabulary کے اعتبار سے ہے۔ انسانی زبان کے الفاظ محدود ہوتے ہیں، لیکن خدا ایک لامحدود ہستی ہے، اس لیے خدا کی صفات بھی اپنی حقیقت کے اعتبار سے لامحدود ہیں۔

اسمائے حسنیٰ کی 99 تعداد گویا کہ خدا کی نمائندہ صفات ہیں۔ اس اعتبار سے خدا کی بقیہ صفات بھی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر انہی بنیادی صفات میں شامل ہیں۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 341۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.