← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Dua ibaadat hai.
Urdu · 13 min
دعا عبادت ہے۔ دعا کے معنی ہیں پکارنا۔ یہ لفظ جب شرعی اصطلاح کے طور پر بولا جائے تو اس کا مطلب ہوگا اللہ کو پکارنا، اللہ سے التجا کرنا۔ یہ دعا ایک عظیم عبادت ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ "الدعاء هو العبادة" الترمذی ابن ماجہ۔ یعنی دعا ہی عبادت ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "الدعاء مخ العبادة" سنن الترمذی۔ یعنی دعا عبادت کا مغز ہے۔
دعا کا عبادت ہونا بتاتا ہے کہ دعا ایک ذاتی نوعیت کا عمل ہے۔ ہر آدمی کو اپنی دعا آپ کرنا ہے۔ جس طرح ہر آدمی اپنی عبادت آپ کرتا ہے، کوئی شخص ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ کسی دوسرے آدمی سے کہے کہ تم میری طرف سے نماز پڑھ دو۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے کہے کہ تم میرے لیے دعا کر دو۔
قرآن کی سورہ قرآن کی سورہ السجدہ میں اہل ایمان کی ایک صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: "يدعون ربهم خوفا وطمعا" سورہ نمبر 32 آیت 16۔ یعنی وہ لوگ اپنے رب کو پکارتے ہیں خوف کے ساتھ اور امید کے ساتھ۔ کسی آدمی کا اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارنا ایک انتہائی قسم کا ذاتی عمل ہے۔ یہ دعائیہ واقعہ کسی آدمی کے دل کی انتہائی گہرائیوں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔
اس قسم کی دعا ایک آدمی کو خود کرنا ہے۔ وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ کسی دوسرے شخص سے کہے کہ تم میری طرف سے خوف کر لینا یا میری طرف سے امید کر لینا۔ اس قسم کی دعا کسی انسان کے لیے اس کی عبدیت کا معیار ہے۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھنے کا مدعی ہو، اس کی زندگی میں ایسے لمحات آنے چاہییں جب کہ اس کی روح اللہ کی یاد سے تڑپ اٹھے۔
اس کے دل و دماغ میں اللہ کے تصور سے زلزلہ پیدا ہو جائے۔ اس کے سینے میں تعلق باللہ کا سیلاب امڈ پڑے۔ اور پھر اس زلزلہ خیز کیفیت کے ساتھ وہ سراپا التجا بن کر اللہ سے دعا کرنے لگے۔ جس آدمی کے اندر یہ کیفیت پیدا نہ ہو، اس کا ایمان ہی اللہ کے نزدیک غیر معتبر ہو جائے گا۔
چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ "من لم یسأل اللہ یغضب علیہ" الترمذی کتاب الدعوات۔ یعنی جو شخص اللہ سے سوال نہیں کرتا، اللہ اس پر غضب ناک ہوتا ہے۔ دعا ایک ایسا لطیف عمل ہے جو براہ راست خدا اور بندے کے درمیان پیش آتا ہے۔ اس عمل کے دوران کوئی تیسرا شخص موجود نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ بہترین دعا وہ ہے جو تنہائیوں میں کسی بندہ خدا کے سینے سے ابلتی ہے۔ ایک روایت میں جنتی انسان کی ایک صفت یہ بتائی گئی ہے: "ذكر الله خاليا ففاضت عيناه" صحیح البخاری رحمہ الحدیث 660۔ یعنی وہ شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور پھر اس کی دونوں آنکھیں بہہ پڑیں۔ ان نصوص کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دعا انتہائی ذاتی نوعیت کا ایک لطیف عمل ہے۔
وہ ہر مدعی ایمان کے لیے اس کی ربانیت کا اظہار ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ دعا ایسی چیز نہیں کہ آپ کسی مفروضہ بزرگ سے مل کر کہیں کہ آپ میرے لیے دعا کر دیجئے۔ اس قسم کی درخواست بلاشبہ دعا کی تصغیر ہے۔ یہ گویا اللہ کی طرف دوڑنے کے بجائے انسان کی طرف دوڑنا ہے۔
اسی طرح لاؤڈ سپیکر پر دعا کرنا بھی ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ اس قسم کا مکبرانہ فعل ایک تقریر ہے، نہ کہ دعا۔ حتیٰ کہ یہ بھی حقیقی دعا نہیں کہ آپ کچھ الفاظ کو رٹ لیں اور ہر بار ان رٹے ہوئے الفاظ کو زبان سے دہرا دیں۔ دعا اپنی حقیقت کے اعتبار سے قلبی تڑپ کا ایک عمل ہے۔
وہ رسمی الفاظ کے کسی مجموعے کا نام نہیں۔ صحیح البخاری میں کتاب الایمان کے تحت ایک باب کا ترجمہ باب ان الفاظ میں قائم کیا گیا ہے: "دعاؤکم ایمانکم" یعنی تمہاری دعا تمہارا ایمان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسا ایمان، ویسی دعا۔ دعا ایمان کو ناپنے کا پیمانہ ہے۔
اگر آدمی کو گہرا ایمان حاصل ہوا ہے تو اس کی دعا بھی دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی ایک ربانی آواز ہوگی۔ وہ جب دعا کرے گا تو اس کا پورا وجود اس کی دعاؤں میں شامل ہو جائے گا۔ دعا اس کے لیے اپنے رب سے ملاقات کا لمحہ بن جائے گی۔ اس کی دعا اپنے رب سے سرگوشی یعنی وسپر کے ہم معنی ہوگی۔
جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: "يناجي ربه" صحیح مسلم رحمہ الحدیث 1258۔ اس کے برعکس جس کا ایمان قلب میں اترا ہوا نہ ہو، بلکہ صرف لفظی اقرار کے ہم معنی ہو، اس کی دعا بھی صرف لفظی اور رسمی دعا ہوگی۔ وہ کچھ رٹے ہوئے الفاظ کو زبان سے دہرائے گا، مگر ان الفاظ کا اس کی قلبی کیفیات سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اس کی دعا صرف تلفظ لسانی کے ہم معنی ہوگی، نہ کہ روحانی کیفیت کے اظہار کے ہم معنی۔
حدیث میں آیا ہے: "رب اشعث مدفوع بالابواب لو اقسم على الله لابره" صحیح مسلم رحمہ الحدیث 6848۔ یعنی بہت سے لوگ ہیں جن کے بال بکھرے ہوئے ہیں، جن کے کپڑے گرد آلود ہیں، جن کے اوپر لوگوں کے دروازے بند ہیں۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا کرے گا۔ اس حدیث میں اس انسان کی تصویر بتائی گئی ہے جو اللہ کے کام میں اتنا زیادہ مشغول ہوا کہ اس کو بال اور کپڑے کا اہتمام کرنے کی بھی فرصت نہ رہی۔
جو لوگ اپنے آپ کو اللہ کے کام میں اس طرح وقف کر دیں، ان کا معاملہ اللہ کا معاملہ بن جاتا ہے۔ وہ جب کسی چیز کے لیے دعا کرتے ہیں تو وہ ایک ایسی چیز کو مانگنا ہوتا ہے جس کی قبولیت کا فیصلہ پیشگی طور پر کیا جا چکا ہے۔ یہ دعا کوئی سادہ چیز نہیں ہے۔ یہ مومن کے لیے ایک عجیب سرمایہ ہے۔
دعا کے سرمایہ ہونے کے بہت سے پہلو ہیں۔ مثلاً کسی شخص کے خلاف آپ سے کوئی ایسی غلطی ہو گئی جس کی تلافی کی کوئی اور صورت نہ ہو، تو آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہو۔ کسی شخص کے خلاف آپ سے کوئی ایسی غلطی ہو گئی جس کی تلافی کی کوئی اور صورت نہ ہو، تو آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہیں کہ اے اللہ، تو میری طرف سے اس کے حق میں دعائے خیر لکھ دے۔ آپ کے اوپر کسی کا احسان ہے اور آپ اس کے احسان کا بدلہ نہ دے سکتے ہوں، تو آپ اس کے حق میں بہترین دعائیں کریں۔
آپ کسی معذوری کی بنا پر کوئی دینی کام نہ کر سکیں، تو آپ ان لوگوں کے لیے اللہ کی مدد کی دعا کریں جو اس کام کو انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے دل میں کسی کے خلاف شکایت آ جائے تو آپ اللہ سے یہ درخواست کریں کہ وہ آپ کے دل سے شکایت کو نکال دے اور اس کی جگہ خیر خواہی کے جذبات رکھ دے۔ امام ابن تیمیہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب قرآن کی کسی آیت کو سمجھنے میں انہیں مشکل پیش آتی تو وہ وضو کر کے کسی ویرانے میں چلے جاتے اور دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ سے یہ کہتے کہ اے ابراہیم کو علم دینے والے، مجھے بھی علم دے دے۔ "يا معلم ابراہیم علمني" حقیقت یہ ہے کہ دعا ہر مشکل کے وقت مومن کا سہارا ہے۔
وہ ہر مشکل مسئلے کا حل ہے۔ دعا بلاشبہ ایک طاقت ہے۔ سب سے بڑی طاقت۔ دعا اللہ سے ملاقات کا لمحہ ہے۔
مگر یہ لمحہ غافل لوگوں کے حصے میں نہیں آتا۔ یہ قیمتی لمحہ صرف اسی انسان کے لیے مقدر ہے جو اپنے دل کے اندر اعلیٰ ربانی کیفیت کو بیدار کر چکا ہو۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 336۔