عظمتِ خداوندی کا اعتراف: دورِ اول میں خلافتِ اسلامی کو غیر معمولی پھیلاؤ ہوا، اس کے باوجود بنو امیہ کے عہد تک خلافت کا ایک ہی مرکز یعنی دمشق تھا۔ عباسی انقلاب کے بعد اندلس میں الٰہدہ سلطنت قائم ہوئی، اس طرح حکومتِ اسلامی کے دو مرکز ہو گئے۔ جلد ہی بعد مراکش میں تیسرا آزاد سیاسی مرکز قائم ہوا، پھر مصر میں خود مختار حکومت قائم ہو گئی۔ اس طرح ایک کے بعد ایک آزاد مسلم سلطنتیں قائم ہوتی چلی گئیں۔
ایک عظیم مسلم سلطنت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ انہی آزاد سلطنتوں میں سے ایک سلطنت وہ تھی جس کو دولتِ سامانیہ کہا جاتا ہے۔ سامانی سلطنت ایران میں ابھری اور تقریباً 150 سال تک قائم رہ کر ختم ہو گئی۔ ساسانی سلطنت کا ایک حاکم، نصر بن احمد بن سامان۔
سامانی سلطنت کا ایک حاکم، نصر ابن احمد ابن سامان، وفات 892 عیسوی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس نے نیشاپور کو اپنی سلطنت میں شامل کیا تو وہاں اس نے ایک جشن منعقد کیا۔ جب وہ اپنے شاہی تخت پر بیٹھا تو اس کی فرمائش کے مطابق تخت نشینی کی افتتاحی رسم قرآن کی تلاوت سے شروع ہوئی۔ مجلس میں ایک عالم موجود تھے، انہوں نے قرآن کی تلاوت کی۔
انہوں نے سورہ المومن کا ایک حصہ پڑھا جس میں یہ آیت بھی تھی: يَوْمَهُمْ بَارِزُونَ لَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارُ. سورہ نمبر 40 آیت 16: یعنی جس دن کہ وہ ظاہر ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہ ہوگی۔ آج بادشاہی کس کے لیے ہے؟ اللہ واحد و قہار کے لیے۔
مذکورہ عالم تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے تو سلطان نصر ابن احمد پر لرزہ طاری ہو گیا۔ وہ ہیبت زدہ ہو کر تخت سے اتر پڑا، تاج کو اپنے سر سے اتارا اور سجدے میں گر گیا۔ اس نے کہا: "اے میرے رب! بلاشبہ بادشاہی تیری ہے، نہ کہ میری۔
" اعلیٰ دعا اور اعلیٰ ذکرِ خداوندی کا تعلق الفاظ سے نہیں ہے، بلکہ انسان کی اپنی نفسیات سے ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ مَنْ تَوَازَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ مشکات المصابیح، رقم الحدیث 5119۔ اس حدیث کا ایک مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے سامنے جھکا دے، وہی وہ شخص ہے جس کو خدا اس طرح عزت دیتا ہے کہ اس کو اسمِ اعظم کے ساتھ ذکر اور دعا کی توفیق ملتی ہے۔ اور جس شخص کو اسمِ اعظم کے ساتھ ذکر اور دعا کی توفیق ملے، اس کو بلاشبہ دنیا ہی میں خدا کی جنت حاصل ہو گئی۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 335۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.