← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Khuda ke ninnaanway naam.
Urdu · 6 min
خدا کے 99 نام ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن لله تسعة وتسعين اسماً، مئة إلا واحداً، من أحصاها دخل الجنة. صحیح البخاری، رحمہ الحدیث 2736۔ یعنی حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کے 99 نام ہیں، سو میں ایک کم۔
جس شخص نے ان کا احصا کیا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ " اس حدیث رسول میں احصا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ احصا کا مطلب مجرد شمار کرنا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اسمائے حسنیٰ کا عارفانہ ادراک ہے۔ عربی کے مشہور لغت المعجم الوسیق میں اس کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أحصَى الشيءَ، أَعْرَفَ قَدْرَهُ.
ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہاں احصا سے مراد احصائے شعوری ہے، نہ کہ احصائے لسانی؛ یعنی اسمائے حسنیٰ کی معرفت۔ اللہ کے یہ نام دراصل اللہ کی صفات کے مختلف پہلو ہیں۔ آدمی خدا پر اور اس کی تخلیقات پر غور کرتا ہے تو خدا کی خدائی کے مختلف پہلو اس کے سامنے آتے ہیں۔ انہی پہلوؤں کا شعوری ادراک ہونا ان کا احصا کرنا ہے۔
اور جو لوگ اس اعتبار سے خدا کی معرفت حاصل کریں، وہ بلاشبہ جنت میں جائیں گے، کیونکہ جنت دراصل معرفتِ خداوندی کی قیمت ہے۔ حدیث میں 99 کا لفظ محض اعتباری ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بے شمار نام ہیں۔ امام رازی نے اپنی تفسیر میں بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ إن لله خمسة آلاف اسمٍ یعنی اللہ کے پانچ ہزار نام ہیں۔ تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 19۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بے شمار نام ہیں۔ حدیث میں اسمائے حسنیٰ کی تعداد 99 بتائی گئی ہے۔ قرآن کا مطالعہ کر کے علماء نے یہ تمام اسمائے حسنیٰ نام بہ نام دریافت کیے ہیں، لیکن یہ نام خدا کے لامتناہی کمالات کی مطلق گنتی کو نہیں بتاتے۔ یہ تمام نام دراصل انسان کی نسبت سے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر جب عبدیت جاگتی ہے اور شعورِ خداوندی اس کے اندر بیدار ہوتا ہے، تو فطری طور پر اس کے اندر مختلف قسم کی ربانی کیفیات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اسمائے حسنیٰ دراصل انہی ربانی کیفیات کے لیے موزوں الفاظ، یعنی appropriate words، کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مثلاً انسان اپنے وجود پر غور کرتا ہے، جو کہ احسن تقویم کا نمونہ ہے (سورہ نمبر 95 آیت 4)۔ وہ نیچر پر غور کرتا ہے، جس میں ہر چیز حیرت انگیز طور پر اپنے آخری ماڈل پر ہے۔
وہ زمین اور آسمان پر غور کرتا ہے، جس میں کہیں کوئی خلل یا نقص موجود نہیں (سورہ نمبر 67 آیت 3)۔ یہ سوچ اور یہ مشاہدہ آدمی کے اندر ایک پرتموج تجربہ، یعنی thrilling experience، پیدا کرتا ہے۔ اس وقت آدمی بے اختیارانہ طور پر یہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کے پاس ایسے موزوں الفاظ ہوں جن کے ذریعے وہ ان لطیف احساسات کا اظہار، یعنی express، کر سکے۔ اس وقت قرآن ان کی عین طلب کے مطابق اس کو یہ الفاظ فراہم کر دیتا ہے: فتبارک الله أحسن الخالقين (سورہ نمبر 30 آیت 14)۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 341۔