Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Sab se badi ibadat se mahrumi.

Urdu · 4 min

سب سے بڑی عبادت سے محرومی۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ اس کی زندگی کی تعمیر میں اس کے والدین کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اس اعتبار سے ہر آدمی اپنے والدین کی تعریف کرتا رہتا ہے۔ لیکن ایسے عورت اور مرد نہیں ملتے جو یہ جانتے ہوں کہ ان کی زندگی کی تعمیر میں پوری انسانیت کا حصہ ہے۔

اس معاملے میں، والدین کا حصہ اگر 1% ہے تو انسانیتِ عامہ کا حصہ 99%۔ لیکن کوئی شخص نہ اس حقیقت کو جانتا ہے اور نہ وہ اس کا اعتراف کرتا ہے۔ مثلاً جب آپ ایک روٹی کھاتے ہیں تو اس کے حصول میں آپ کے والدین کا حصہ 1% سے بھی کم ہوتا ہے، اور انسانیتِ عامہ کا حصہ اس کے حصول میں 99% سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ کیونکہ ہزاروں سال کے لمبے تہذیبی عمل کے بعد یہ ممکن ہوا ہے کہ ایک انسان موجودہ صورتحال میں روٹی کو دریافت کرے اور اس کو اپنی غذا بنائے۔

یہی معاملہ دوسری تمام چیزوں کا ہے، مثلاً کپڑا اور مکان اور سواری اور مشین اور صنعت وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو چیزیں انسان کو ملی ہوئی ہیں، ان کا ایک حصہ وہ ہے جو براہِ راست عطیے کی حیثیت رکھتا ہے، اور دوسرا حصہ وہ ہے جس کی حیثیت بالواسطہ عطیے کی ہے۔ براہِ راست عطیہ آئس برگ کے ٹپ کے مانند ہے، اور بالواسطہ عطیہ آئس برگ کے مانند۔ بالواسطہ عطیہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا، لیکن وہ اپنی مقدار کے اعتبار سے براہِ راست عطیے سے بہت زیادہ ہے۔

لوگ صرف ظاہری عطیے کو جانتے ہیں، اس لیے وہ بہت کم شکر یا اعتراف کر پاتے ہیں۔ اگر وہ بالواسطہ عطیے کو جان لیں تو ان کا شکر و اعتراف بہت زیادہ بڑھ جائے۔ وہ سارے انسانوں سے اس سے بھی زیادہ محبت کرنے لگیں جو محبت وہ اپنے ماں باپ سے کرتے ہیں۔ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی عبادت شکرِ کثیر اور اعترافِ کثیر ہے۔

لیکن جو انسان مذکورہ حقیقت سے بے خبر ہو، وہ شکرِ کثیر کی عبادت سے بھی محروم رہے گا اور اعترافِ کثیر کی عبادت سے بھی۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 332۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.