Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Shukr-e-khudawandi.

Urdu · 4 min

شکرِ خداوندی۔ لوگوں سے بات کیجیے تو ہر آدمی شکایت، یعنی کمپلینٹ، کی بولی بولے گا۔ ہر آدمی منفی باتیں کرے گا۔ یہ شکایت یا منفی باتیں کس کے خلاف ہیں؟

یہ سب کی سب انسان کے خلاف ہیں۔ ہر ایک کی شکایت کا نشانہ کوئی انسان، یا کوئی قوم، یا کوئی انسانی گروہ ہوگا۔ یہی ہر جگہ کے لوگوں کی عام حالت ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے لوگوں کو شکرِ خداوندی کے احساس سے ناآشنا بنا دیا ہے۔

جن واقعات کو لے کر لوگ شکایتیں کرتے ہیں، وہ انسان ساز، یعنی مین میڈ واقعات ہیں۔ مگر یہ واقعات پوری انسانی زندگی کا 1% سے بھی کم حصہ ہوتے ہیں۔ دوسرے واقعات وہ ہیں جن کو خدا ساز، یعنی گاڈ میڈ واقعات کہا جا سکتا ہے۔ یہ خدائی واقعات اپنی مقدار میں بہت زیادہ ہیں، حتیٰ کہ 99% سے بھی زیادہ۔

اس فرق کو سامنے رکھتے ہوئے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جو انسانی واقعات 1% سے بھی کم ہیں، انہی کے بارے میں لوگ سوچتے ہیں اور انہی کا چرچہ کرتے ہیں۔ وہ انہی سے اپنی رائے بناتے ہیں۔ اس کے برعکس جو خدائی واقعات یا خدائی نعمتیں، یعنی ڈیوائن بونٹیز، انسان کو ملی ہوئی ہیں، جن کی مقدار 99% سے بھی زیادہ ہے، ان کا کوئی چرچہ نہیں۔ ان کے بارے میں نہ کوئی سوچتا اور نہ ان کا اعتراف کرتا ہے۔

لوگوں کی شکایتی نفسیات لوگوں کی شکایتی نفسیات کا اصل سبب یہی ہے۔ لوگ صرف انسانی واقعات کو جانتے ہیں، اس لیے وہ منفی بات کرتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر وہ خدائی واقعات کو جانیں تو وہ ان کو اتنا زیادہ نظر آئیں گے کہ ان کے مقابلے میں انسانی واقعات ناقابلِ تذکرہ بن جائیں گے۔ اگر ایسا ہو تو یقینی طور پر یہ ہوگا کہ لوگ انسانی شکایتوں کو بھول جائیں گے۔

خدا کی نعمتوں کو سوچ کر وہ اتنا زیادہ سرشار رہیں گے کہ انہیں یاد ہی نہ رہے گا کہ ان کے ساتھ کسی نے قابلِ شکایت بات کی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو کسی آدمی کے اندر "الحمدللہ" کی سچی اسپرٹ پیدا کرتی ہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 331۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.