سب سے بڑی محرومی 17 ستمبر 2008 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے میر تقی میر ہال میں مسلم مسائل پر ایک سیمینار تھا۔ اس میں مسلمانوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے، ان میں بارش مسلمان بھی تھے اور بیریش مسلمان بھی۔ اس کا پورا پروگرام انگریزی زبان میں ہوا، میں بھی اس پروگرام میں شریک تھا۔ تمام مقررین نے بلا استثنا ہندوستانی مسلمانوں کو ایک مظلوم کمیونٹی بتایا۔
ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا کے مسلمان "محاصرہ" یعنی سیج کی حالت میں ہیں۔ ہر ایک نے مختلف الفاظ میں مسلمانوں کی نسبت سے اسی قسم کی منفی باتیں کیں۔ میں غم کے احساس میں ڈوبا ہوا لوگوں کی باتیں سن رہا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ میں پہلی بار 1943 میں دہلی آیا تھا۔
اس وقت میں نے پہلی بار جامعہ ملیہ اسلامیہ کو دیکھا۔ اس وقت کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ذاکر حسین، وفات 1969 سے بھی میری ملاقات ہوئی۔ اس وقت جامعہ ایک معمولی کالج کی طرح تھا، نامنظور ادارہ ہونے کی بنا پر اس کی ڈگری کی بھی جاب مارکیٹ میں۔ نامنظور ادارہ ہونے کی بنا پر اس کی ڈگری کی بھی جاب مارکیٹ میں کوئی ویلیو نہیں تھی۔
آج 65 سال بعد یہاں جامعہ ملیہ کے نام سے ایک عالی شان یونیورسٹی بنی ہوئی ہے۔ پہلے کے مقابلے میں آج جامعہ ملیہ اسلامیہ نے تقریباً سو گنا ترقی کی ہے۔ اس کی یہ تمام ترقیاں آزادی کے بعد نئے انڈیا میں ہوئی۔ مذکورہ سیمینار جامعہ کے ایک شاندار ہال میں ہوا۔
اس ماحول میں لوگوں کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ جامعہ ملیہ علامتی طور پر یہ بتا رہا ہے کہ اس ملک میں مسلمان مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال شکر کا تقاضا کرتی ہے۔ پھر کیوں ایسا ہوا کہ ایک ترقی یافتہ مسلم ادارے میں بیٹھ کر لوگ اس طرح ناشکری کی باتیں کر رہے تھے؟ میں نے سوچا کہ لوگوں کے اندر خدا کا خوف نہیں، ورنہ حدیث رسول کے مطابق انہیں ڈرنا چاہیے کہ اگر ان کے اندر شکرِ انسانی نہ ہو تو وہ شکرِ خداوندی کے جذبے سے محروم ہو جائیں گے۔
اور بلاشبہ شکرِ خداوندی کے جذبے سے محرومی سب سے بڑی محرومی ہے۔ اس حقیقت کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: "من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ" مسند احمد جلد 4 صفحہ 278۔ یعنی جو آدمی انسان کا شکر گزار نہ ہو، وہ خدا کا بھی شکر گزار نہیں ہو سکتا۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 333۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.