سچا عمل، سچی دعا۔ ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ بہرحال ایک مختصر مدت کے بعد مرنے والا ہے۔ اس کے بعد ہر عورت اور ہر مرد کو خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اس کے بعد خدا ہر ایک کے ابدی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔
یہ ابدی مستقبل یا تو جنت کی صورت میں ہوگا یا جہنم کی صورت میں۔ اس معاملے کو نجات، یعنی سالویشن، کہا جاتا ہے۔ یہ نجات ان لوگوں کو ملے گی جو خدا کے یہاں اس حال میں پہنچیں کہ ان کے پاس دو میں سے کوئی ایک چیز اپنی اعلیٰ صورت میں موجود ہو۔ وہ دو چیزیں یہ ہیں: سچا عمل یا سچی دعا۔
سچا عمل وہ ہے جو خالص رضائے الہی کے لیے کیا جائے، اور سچی دعا وہ ہے جو کامل عجز کی سطح پر کی گئی ہو۔ The criterion of true عمل is that it is performed purely for the sake of God, and the criterion of true دعا is that it is performed with a sense of total helplessness. سچے عمل کی توفیق اس کو ملتی ہے جو اپنے آپ کو منافقت سے کامل طور پر پاک کرے، جس کے قول اور جس کے عمل میں کوئی فرق باقی نہ رہے۔ جو اپنے آپ کو کمزور شخصیت، یعنی weak personality، بننے سے بچائے، جس کے لیے اس کا عمل اس کی پوری شخصیت کا اظہار بن جائے۔
اسی طرح سچی دعا کی توفیق اس انسان کو ملتی ہے جو اپنے شعور کو اتنا زیادہ ترقی دے کہ وہ خدا کی قدرتِ کاملہ کے مقابلے میں اپنے عجزِ کامل کو دریافت کرے۔ شعور کی اسی سطح پر پہنچ کر کسی کو وہ دعا حاصل ہوتی ہے جس کو سچی دعا کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچی دعا اور سچا عمل دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ سچی دعا میں سچا عمل شامل ہے، اور سچا عمل ہمیشہ سچی دعا کی زمین پر پیدا ہوتا ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے، سچے عمل اور سچی دعا کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ سچا عمل دراصل حقیقی عمل کا دوسرا نام ہے، اور سچی دعا حقیقی دعا کا دوسرا نام۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 329۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.