عجز کی دریافت: انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے کامل طور پر ایک عاجز مخلوق ہے، لیکن امتحان یعنی ٹیسٹ کی مصلحت کے تحت اس کے اوپر بظاہر قدرت کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس پردے کو پھاڑے، اور بظاہر عاجز نہ ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے عجز کو دریافت کرے۔ یہ دریافت بلاشبہ سب سے بڑی دریافت ہے۔ اسی دریافت میں انسان کی تمام سعادتوں کا راز چھپا ہوا ہے۔
عجز یعنی helplessness کی دریافت، کسی انسان کے لیے اس کی عظیم ترین دریافت یعنی greatest discovery ہے۔ یہ دریافت اس کو ذکر و دعا کے اعلیٰ مواقع عطا کرتی ہے۔ یہ دریافت اس کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ یہ کہہ سکے کہ خدایا تو نے انسان کو عجز کے ساتھ پیدا کیا، ساری قدرت تیری طرف، اور سارا عجز انسان کی طرف۔ ایسی حالت میں تو انسان کے معاملے میں غیر جانبدار یعنی indifferent نہیں ہو سکتا۔
یہ تیری شانِ خداوندی کے خلاف ہے کہ تیرے اور انسان کے درمیان عجز اور غیر جانبداری یعنی indifference کا تعلق ہو۔ ضروری ہے کہ خدا اور بندے کے درمیان محروم یعنی deprived اور معطی یعنی giver کا تعلق ہو۔ یہی تعلق خدائے رحمان اور رحیم کی شان کے مطابق ہے۔ یہی وہ دعا ہے جس کو حدیث میں اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنا بتایا گیا ہے۔
جب کوئی بندہ حقیقی معنوں میں یہ کہے کہ خدایا تو نے مجھ کو ایک عاجز انسان کی حیثیت سے پیدا کیا، تو اب خدایا تو نے مجھ کو ایک عاجز انسان کی حیثیت سے پیدا کیا، تو اب تُو میرے معاملے میں غیر جانبدار یعنی indifferent نہیں ہو سکتا۔ جب کوئی بندہ اس طرح خدا کو پکارے، تو خدا کی رحمت روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ سفر کر کے اس کی طرف آ جاتی ہے۔ شاعر نے جو بات مظلوم کی نسبت سے کہی تھی، وہ عاجز کی نسبت سے زیادہ درست ہے۔ یعنی اجابت یعنی قبولیت کا خود دعا کا استقبال کرنے کے لیے آ جانا۔
«بَتَرْ سَزْ آهِ مَظْلُومَةٍ» کہ ہنگامِ دعا کردن، «اِجَابَتْ اَزْ دَرِّ حَقٍّ» بحرِ استقبال میں آئے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 323۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.