پوائنٹ آف ریفرنس: سب سے بڑی دعا وہ ہے جو پوائنٹ آف ریفرنس کے ساتھ کی جائے۔ یعنی آپ پر ایک تجربہ گزرا، وہ تجربہ آپ کے لیے اللہ کی یاد کا ایک حوالہ بن گیا۔ اس وقت آپ کے اندر ایک روحانی تموج، یعنی اسپرچول اسٹارم، پیدا ہوا۔ پھر اس واقعے کے حوالے سے آپ کے اندر کچھ دعائیہ الفاظ نکلے۔
یہ پوائنٹ آف ریفرنس کے ساتھ دعا کرنا ہے، ایسی دعا بہت زیادہ اہم ہوتی ہے۔ یہی وہ دعا ہے جس کو حدیث میں اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنا بتایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر گرمی کا مہینہ ہے، آپ ایک شخص سے ملنے کے لیے اس کے یہاں جاتے ہیں۔ جب آپ اس کے یہاں پہنچتے ہیں تو وہ آپ کو عزت کے ساتھ بٹھاتا ہے، اور شیشے کے گلاس میں ٹھنڈا پانی آپ کو پیش کرتا ہے۔
آپ پانی پیتے ہیں، اس سے آپ کا سوکھا ہوا حلق تر ہو جاتا ہے، آپ کی پیاس بجھ جاتی ہے۔ اس تجربے کے بعد آپ کے اندر ایک روحانی بھونچال آتا ہے۔ آپ کہہ اٹھتے ہیں کہ خدایا، اسی طرح ایک دن میں تیرے پاس آنے والا ہوں۔ میں تیرے پیدا کیے ہوئے ایک انسان سے ملا تو اس نے مجھے ٹھنڈا پانی پیش کیا۔
تو جو کہ خالق ہے، کیا تو ایسا کرے گا کہ جب میں تجھ سے ملوں تو تو اپنے فرشتوں کو یہ حکم دے دے کہ اس کو کھولتا ہوا پانی پلاؤ؟ حقیقی دعا یاد کیے ہوئے الفاظ کو دہرانے کا نام نہیں۔ حقیقی دعا میں الفاظ کی حیثیت صرف علامت کی ہوتی ہے۔ حقیقی دعا وہ ہے جو معرفت کی دعا ہو۔
حقیقی دعا وہ ہے جو خدائی دریافت کے بعد آپ کی زبان پر جاری ہو جائے۔ حقیقی دعا ایک اعلیٰ عبادت ہے۔ حقیقی دعا وہ ہے جو بندے کو اس کے خالق یعنی کریٹر سے قریب کر دے۔ حقیقی دعا وہ ہے جو کسی بندے کے پورے وجود کا ایک اظہار بن جائے۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 322۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.