زندہ دعا ایک بیرونی سفر میں مجھے ایک رات کے لیے فرینکفرٹ، یعنی جرمنی کے ایئرپورٹ پر ٹھہرنا پڑا۔ ایئرپورٹ کی ایک خاتون کارکن نے کہا کہ آپ کے پاس جرمنی کا ویزا نہیں ہے، ورنہ ہم آپ کو شہر کے اندر کسی ہوٹل میں ٹھہرا دیتے۔ اس نے ایئرپورٹ کے ایک حصے میں مجھے پہنچایا، یہاں میں لیٹ سکتا تھا۔ پھر اس نے ایک ٹرے میں شام کا کھانا لا کر مجھے دیا، اور ایک کمبل، یعنی بلینکٹ بھی دیا، اور کہا کہ یہاں آپ رات کو آرام کریں۔
صبح کو میں آ کر اگلی فلائٹ تک آپ کو پہنچا دوں گی۔ میں کھانے سے فراغت کے بعد کمبل اوڑھ کر وہاں لیٹ گیا۔ صبح کو مذکورہ خاتون دوبارہ آئی تو میں نے وہ کمبل اس کو واپس دینا چاہا۔ اس نے کہا، "اس کو واپس کرنے کی ضرورت نہیں۔
" یہ واقعہ جب مجھ کو یاد آتا ہے تو وہ میرے لیے دعا کا پوائنٹ آف ریفرنس بن جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ خدایا، موت سے پہلے کی زندگی میں تو نے مجھے سب کچھ دے دیا۔ کیا موت کے بعد کی زندگی میں تو مجھ کو ہر چیز سے محروم کر دے گا؟ تیری رحمت جو موت سے پہلے کی زندگی میں مجھے حاصل تھی، اس رحمت کو تو موت کے بعد کی زندگی میں بھی میرے لیے جاری رکھ۔
موت سے پہلے کی زندگی میں تو نے مجھے محرومی سے بچایا۔ موت کے بعد کی زندگی میں بھی تو مجھے محرومی سے بچا لے۔ ایک انسان دی ہوئی چیز کو واپس نہیں لیتا۔ پھر تو جو خالقِ انسان ہے، کیسے یہ کر سکتا ہے کہ تو دی ہوئی چیز کو مجھ سے واپس لے لے؟
آدمی کے اندر اگر زندہ فکر موجود ہو اور اس کا شعور بیدار ہو، تو زندگی کا ہر واقعہ اس کے لیے ذکر اور دعا کا پوائنٹ آف ریفرنس بن جائے گا۔ وہ ہر واقعے کے حوالے سے خدا کو یاد کرنے لگے گا۔ ہر واقعہ اس کے لیے ایک ایسا حوالہ بن جائے گا جس میں وہ دعا کے لیے نئے الفاظ پالے گا۔ اسی قسم کا ذکر اور دعا حقیقی معنوں میں ذکر اور دعا ہے۔
جو آدمی اس طرح کے احساسات میں جینے لگے، وہ گویا ایک ایسے درخت کی مانند ہے جس کی سرسبزی کبھی ختم نہ ہو، جو ابدی طور پر پھول اور پھل کی فصل دیتا رہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 321۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.