Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Dua ki daryaaft.

Urdu · 3 min

دعا کی دریافت۔ دعا ایک دریافت ہے؛ انسان جب اپنے عجز اور دعا کی قدرت کی دریافت کرتا ہے تو اس کے بعد وفورِ جذبات کے تحت جو الفاظ اس کی زبان پر جاری ہو جاتے ہیں، اسی کا نام دعا ہے۔ دعا یہ ہے کہ آدمی کے ربانی تجربات الفاظ میں ڈھل جائیں، اس کا داخلی احساس خارجی اظہار کی صورت اختیار کر لے۔ دعا کی تاثیر کا تعلق اس کے الفاظ سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق خود دعا کرنے والے کے داخلی احساس سے ہے۔

مثال کے طور پر، ایک انسان نے اپنے اوپر اللہ کے انعامات کو لے کر غور کیا؛ اس نے سوچا کہ اللہ نے مجھ کو وجود بخشا، میرے لیے ایک پورا لائف سپورٹ سسٹم پیدا کیا، میری ضرورت کی ہر چیز ایک طرفہ طور پر مجھے عطا کر دی۔ ان باتوں کو سوچتے ہوئے اس کو موت کے بعد کا دورِ حیات یاد آیا۔ اس نے سوچا کہ آج جو نعمتیں مجھے ملی ہوئی ہیں، وہ سامانِ امتحان کے طور پر ہیں؛ موت کے بعد کے دورِ حیات میں کیا ہوگا، وہ سب کا سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ ایک طرف اس نے اپنے عجز یعنی helplessness کو دریافت کیا، اور دوسری طرف اس نے اللہ کی قدرت کا ادراک کیا۔

ان باتوں کو سوچتے ہوئے وہ بے قرار ہو گیا، اور اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: "خدایا! تو اپنے فضل سے اپنی ان نعمتوں کو میرے لیے دنیا سے آخرت تک ممتد یعنی extend کر دے۔ " ایک ہے دعا، اور دوسری چیز ہے ماقبلِ دعا یعنی pre-dua۔ حقیقی دعا اس وقت نکلتی ہے جبکہ اس کا ایک ماقبل موجود ہو۔

یہ ماقبل دعا کرنے والے کا ایمانی تجربہ ہے۔ آدمی اپنے خالق اور مالک کے بارے میں سوچتا ہے، اس سے اس کے دل و دماغ میں ایک روحانی حرکت پیدا ہوتی ہے، اس کی نفسیات میں ایک تموج برپا ہوتا ہے، اس کو ربانی حقیقتوں کا تجربہ ہونے لگتا ہے۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ داخلی سطح پر اس کا رب ایک حقیقتِ اعلیٰ یعنی higher reality سے قائم ہو گیا ہے۔ یہ غیر ملفوظ کیفیت جب لفظوں کی صورت میں ظاہر ہو تو اسی کا نام دعا ہے۔

کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 319۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.