دعائے اعظم۔ دعا کا لفظی مطلب "پکارنا" یعنی to call ہے، یعنی بندے کا اپنے احساسِ بندگی کے تحت اپنے رب کو پکارنا۔ اس دعا کی دو قسمیں ہیں؛ اس کی عام قسم یہ ہے کہ دعا کے مقرر الفاظ کو یاد کر لینا، اور ان مقرر الفاظ کے حوالے سے اللہ سے دعا کرنا۔ دعا کی دوسری قسم وہ ہے جس کو دعائے اعظم کہا جا سکتا ہے۔
یہ دعا وہ ہے جب بندے پر اپنی عبدیت کا گہرا احساس طاری ہو، اور وہ ایسے الفاظ میں اللہ کو پکارے جو اللہ کی رحمت کو invoke کرنے والے ہوں۔ مثال کے طور پر قرآن میں ایک دعا ان الفاظ میں آئی ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ سورہ نمبر 2، آیت 201۔ آپ اس دعا کو پڑھیں اور آپ کے اندر گہرا جذبۂ عبودیت جاگ اٹھے۔ اس وقت آپ کو وہ نعمتیں یاد آئیں جو موجودہ دنیا میں آپ کو اللہ نے دی ہیں، اور پھر آپ لرزتے ہوئے قلب کے ساتھ کہیں کہ خدایا تو نے مجھے دنیا کے حسنہ سے محروم نہیں کیا، اب تو آخرت کا حسنہ بھی میرے لیے مقدر کر دے۔
اسی طرح آپ اس حدیثِ قدسی کو پڑھیں: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي فَلْيَظُنَّ بِي خَيْرَ مَا أَحَبَّ ذخیرۃ الحفاظ لابن القیصرانی، جلد 5، صفحہ 2793۔ یعنی "میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں" تو بندے کو چاہیے کہ وہ مجھ سے اپنے محبوب خیر کا گمان کرے۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے آپ کو خدا کی وہ رحمتیں، یعنی blessings، یاد آئیں جو موجودہ دنیا میں خدا نے آپ کو دی ہیں۔ اس یاد سے آپ تڑپ اٹھیں، اور آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلیں کہ خدایا تو نے دنیا میں میرے ساتھ ہر اعتبار سے خیر کا معاملہ فرمایا، اب تو آخرت میں بھی میرے ساتھ ہر اعتبار سے خیر کا معاملہ فرما۔
یہی دعائے اعظم ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ افراد جن کو اس طرح کی دعائے اعظم کی توفیق حاصل ہو۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 318۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.