توبہ اسلام میں توبہ کے لفظی معنی رجوع کے ہیں، یعنی لوٹنا۔ دینی اصطلاح میں توبہ کا مطلب ہوتا ہے گناہ کے بعد دوبارہ اصلاح کی طرف لوٹنا۔ توبہ کی اصل ندامت ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے: "الندم توبةٌ" ابن ماجہ، کتاب الزہد، مسند احمد، جلد 1، صفحہ 376۔
یعنی توبہ یہ ہے کہ آدمی اپنے گناہ پر سخت شرمندہ ہو۔ توبہ اپنی زبان سے کسی لفظ کو دہرانے کا نام نہیں ہے۔ توبہ دراصل شدید طور پر احساسِ خطا کا نام ہے۔ جب آدمی اپنی غلطی پر شرمندہ ہو تو وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ دوبارہ اپنی غلطی کا اعادہ کرے۔
اس لیے توبہ کے ساتھ لازمی طور پر اصلاح کا تصور جڑا ہوا ہے۔ اگر توبہ کے باوجود آدمی اپنی اصلاح نہ کرے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ اس نے حقیقی معنوں میں توبہ نہیں کیا۔ توبہ کرنے والوں کے ذکر کے تحت قرآن میں یہ آیت آئی ہے: "فَاُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ" سورہ نمبر 25، آیت 70۔ یعنی اللہ توبہ کرنے والوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا۔
God will change the evil deeds of such people into good ones. اگر ایک آدمی سے برائی ہو جائے، اس کے بعد اس کو خدا کی یاد آئے، وہ خدا کی باز پرس کو سوچ کر تڑپ اٹھے۔ وہ توبہ اور استغفار کرتے ہوئے خدا کی طرف دوڑ پڑے، تو خدا اپنی رحمت سے ایسی برائی کو نیکی کے خانے میں لکھ دے گا۔ کیونکہ وہ برائی آدمی کے لیے خدا کی طرف رجوع کرنے کا سبب بن گئی۔
عربی میں کہا جاتا ہے کہ "الإنسان مُرَكَّبٌ مِنَ الْخَطَأِ وَالنِّسْيَانِ" اسی طرح انگریزی زبان میں یہ مقولہ ہے کہ غلطی کرنا انسان کی خصلت ہے۔ To err is human. حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں معیاری طور پر صالح بننا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ جو چیز ممکن ہے وہ یہ کہ آدمی توبہ کرنے والا بنے۔
غلطی کرنے کے بعد وہ فوراً چونکے، وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہو، وہ اپنی اصلاح کر کے دوبارہ خدا کی طرف رجوع کرنے والا بن جائے۔ یہی انسان سے مطلوب ہے۔ اگر کوئی شخص غلطی پر اصرار نہ کرے اور وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کرتا رہے، تو وہ خدا کے یہاں قابلِ معافی قرار دیا جائے گا۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 315۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.