Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Ghaur-o-fikr ek ibaadat.

Urdu · 4 min

غور و فکر ایک عبادت۔ أخرج أبو نعيم في الحلية، جلد 1، صفحة 164. عن محمد بن واسع، أن رجلاً من البصرة ركب إلى أم ذر رضي الله عنها بعد وفاة أبي ذر رضي الله عنه. يسألها عن عبادة أبي ذر، فأتاها فقال: جئتك لتخبريني عن عبادة أبي ذر.

قالت: كان النهار أجمع خالياً يتفكر. حیات الصحابہ، جلد 2، صفحہ 627۔ ترجمہ: محمد ابن واسع کہتے ہیں کہ ابوذر صحابی کی وفات کے بعد ایک آدمی بصرے سے سفر کر کے ام ذر یعنی اہلیہ ابوذر کے پاس آیا، تاکہ وہ ابوذر کی عبادت کے بارے میں ان سے معلوم کرے۔ وہاں پہنچ کر اس نے کہا کہ میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ مجھ کو ابوذر کی عبادت کے بارے میں بتائیں۔

ام ذر نے کہا کہ وہ سارے دن تنہائی میں بیٹھ کر غور و فکر کرتے تھے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول کی خصوصی عبادت کیا ہوتی ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول کی خصوصی عبادت کیا ہوتی تھی، وہ وہی چیز ہوتی تھی جس کو قرآن میں تفکر، تذکر، تدبر، تبسم، اور تعقل جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی فطرت یعنی نیچر میں اور دینی امور میں غور کرتے رہنا۔

غور و فکر کے ذریعے ہر روز اپنے لیے ربانی غذا حاصل کرنا، متعین عبادات کے سوا غیر متعین عبادت میں مشغول رہنا۔ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے روٹین کا طالب ہے، اس کا ہر کام روٹین کے تحت ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے پانچ وقت کی نماز گویا کہ روٹین کی نماز ہے۔ یہ روٹین بلاشبہ ضروری ہے، مگر عبادت اپنی حیثیت کے اعتبار سے ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔

یہی تسلسل مومن کی زندگی میں غور و فکر کے ذریعے جاری رہتا ہے۔ آدمی ہر لمحہ مختلف قسم کے مشاہدات اور تجربات سے گزرتا ہے۔ اس دنیا کے ہر مشاہدے اور تجربے میں خدا کی تجلی شامل رہتی ہے۔ یہی تجلیات جب زندہ احساس بن جائیں تو اس کو ذکر و فکر کہا جاتا ہے۔

یہی وہ عبادت ہے جس کو قرآن کی اس آیت میں انسان کی تخلیق کا مقصد قرار دیا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ سورہ نمبر 51 آیت 56۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 314۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.