← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Kalima-e-marifat.
Urdu · 7 min
کلمۂ معرفت۔ صحیح البخاری میں روایات کی کل تعداد، یعنی مقررات سمیت، 7563 ہے۔ اس مجموعے کی آخری حدیث یہ ہے: «كَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَٰنِ خَفِيفَتَانِ عَلَى الْلِسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ» سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم۔ یعنی دو کلمے رحمان کو بہت محبوب ہیں، وہ زبان پر ہلکے ہیں مگر وہ میزان میں بھاری ہیں۔
وہ دو کلمے یہ ہیں: سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم کے الفاظ میں پراسرار خواص، یعنی mysterious qualities، چھپے ہوئے ہیں۔ اور ان الفاظ کو زبان سے ادا کرتے ہی طلسماتی طور پر ان کے یہ خواص ظاہر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اس حدیث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم کے الفاظ میں پراسرار طور پر وزن چھپا ہوا ہے۔
اور قیامت کے ترازو میں رکھتے ہی وہ پلڑے کو جھکا دیں گے۔ ترازو کی تول میں ان الفاظ کا بھاری ہونا دراصل تمثیل کی زبان میں ہے، نہ کہ حقیقت کی زبان میں۔ اس سے مراد اس کلمے کا معنوی وزن ہے، نہ کہ مادی وزن۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے تمام اعمال میں سب سے بڑا عمل خدا کی معرفت ہے، یعنی خداوندِ عالم کو شعوری طور پر دریافت کرنا۔
اور اس دریافت کا انسان کی پوری شخصیت میں اتر جانا۔ سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم دراصل معرفتِ خداوندی کے کلمے ہیں۔ جب ایک انسان خدا کی ذات کو اس حیثیت سے دریافت کرتا ہے کہ وہ ہمہ تن پاک ہے، وہی ہر قسم کی تعریف اور شکر کا مستحق ہے، وہ تمام عظمتوں کا تنہا مالک ہے، یہ دریافت جب شدتِ یقین کے ساتھ کسی انسان کی زبان پر ایک شعوری اظہار کے طور پر جاری ہو جائے، تو وہ کائنات کا سب سے بڑا عمل ہوتا ہے۔ وہ اتنا عظیم ہوتا ہے کہ ہر دوسری چیز اس کے مقابلے میں چھوٹی قرار پائے۔
معرفت سب سے بڑی عبادت ہے، یہ شعور کی سطح پر خدا کو پا لینا ہے۔ معرفت اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی آدمی کی داخلی شخصیت کے اندر وجود میں آنے والا ایک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ جب کسی انسان کے اندر وجود میں آتا ہے تو وہ اس کے اندر ایک روحانی طوفان برپا کر دیتا ہے۔ اس طوفانی تجربے کے وقت اس کی زبان سے وہ روحانی الفاظ جاری ہو جاتے ہیں جن کا ذکر اوپر کی حدیث میں کیا گیا ہے۔
مذکورہ کلمہ، یعنی سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم کے بارے میں حدیث میں بتایا گیا ہے کہ وہ زبان سے کہنے میں ہلکے ہیں مگر وہ اجر کے اعتبار سے بھاری ہیں۔ میرے علم کے مطابق شارحین اس بیان کی زیادہ بامعنی تشریح نہ کر سکے۔ اصل یہ ہے کہ اس کلمے کا بھاری ہونا اس لیے نہیں ہے کہ خود یہ کلمہ بھاری ہے؛ اس کا تعلق کلمے سے نہیں ہے بلکہ معرفت سے ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم کے الفاظ میں کوئی پراسرار صفت ہے، اس لیے وہ میزان میں بھاری ہو جاتے ہیں۔
اس کا تعلق کلمے کی داخلی حقیقت سے ہے، نہ کہ کلمے کے ظاہری الفاظ سے۔ یہ کلمہ معرفتِ الہی کا کلمہ ہے۔ معرفتِ الہی اور اس کا اظہار، بلاشبہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ جن کلمات میں یہ معرفت شامل ہو جائے، ان کلمات کو وہ ناقابلِ بیان حد تک عظیم بنا دیتی ہے۔
مزید یہ کہ ان کلمات کو محض زبان سے ادا کرنا کسی کو مذکورہ عظیم اجر کا مستحق نہیں بناتا۔ اس عظیم اجر کا مستحق صرف وہ شخص ہے جس نے مطلوب عارفانہ کیفیت کے ساتھ اس کو ادا کیا ہو۔ ان کلمات کی ادائیگی کا معاملہ بھی وہی ہے جو دوسرے دینی اعمال کا معاملہ ہے۔ کوئی بھی دینی عمل اپنی کیفیت کے اعتبار سے عظیم یا غیر عظیم بنتا ہے۔
اسی طرح یہ کلمات بھی اسی وقت عظیم ہیں جبکہ وہ داخلی کیفیت کے ایک فطری اظہار کے طور پر زبان سے نکلے ہوں۔ عارفانہ کیفیت کے بغیر صرف زبان سے الفاظ کی ادائیگی کوئی دینی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 304۔