دو بول: آپ امام البخاری کی کتاب "صحیح" کو پڑھنا شروع کریں تو جب آپ اس کے خاتمے پر پہنچیں گے تو آخر میں آپ کو یہ حدیث لکھی ہوئی ملے گی: "كَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَٰنِ خَفِيفَتَانِ عَلَى الْلِسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ" سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم۔ یعنی دو بول خدائے مہربان کو محبوب ہیں، وہ زبان پر ہلکے ہیں مگر قیامت کے میزان پر بھاری ہیں، وہ بول ہیں: سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم۔ اس میں شک نہیں کہ یہ دونوں بول زمین اور آسمان کی تمام چیزوں سے زیادہ وزنی ہیں، وہ قیامت میں اعمال کے ترازو کو جھکا دینے والے ہیں۔ مگر ان بولوں کی یہ اہمیت ان کے تلفظ میں نہیں ہے، بلکہ ان کی حقیقت میں ہے۔
وہ اس لیے ہے کہ وہ جس معنویت کا اظہار ہیں، وہ معنویت اپنی اہمیت میں تمام چیزوں سے بڑھی ہوئی ہے۔ یہ دونوں بول دراصل معرفتِ خداوندی کے بول ہیں: ایک شخص کو ایمان کی معرفت حاصل ہوئی، اس نے اللہ کی پاک ہستی کا ادراک کیا، اس نے دیکھا کہ کائنات اپنے انگنت کرشموں کے ساتھ اس کی حمد میں نغمہ سنج ہے۔ اس صاحبِ معرفت انسان نے اپنے اندر اور اپنے باہر خدا کی عظمت و جلال کی نشانیاں دیکھیں۔ اس معرفت نے اس کے سینے میں حمدِ الہی اور اعترافِ خداوندی کا طوفان برپا کر دیا۔
وہ بے اختیار پکار اٹھا کہ خدایا تو پاک ہے، ساری حمد تیرے لیے ہے، تو سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ اس کی زبان پر بے اختیار یہ کلمات جاری ہو گئے: سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم اس طرح کا ایک بول محض ایک انسانی بول نہیں، وہ خدا کی بے پایاں عظمتوں کا انسان کی زبان سے اظہار ہے۔ وہ تمام باوزن چیزوں سے زیادہ باوزن ہے۔ وہ بلاشبہ اسی قابل ہے کہ وہ جس پلڑے میں رکھا جائے، وہ اس پلڑے کو جھکا دے۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 306۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.