عافیت کی زندگی عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ فُتِحَ لَهُ مِنْكُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَمَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا» یعنی: «أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَن يَسْأَلَ الْعَافِيَةَ» الترمذی، رقم الحدیث 3548۔ یعنی: تم میں سے جس کے لیے دعا کا دروازہ کھولا جائے، اس کے لیے رحمت کے تمام دروازے کھول دیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب دعا یہ ہے کہ بندہ اس سے عافیت مانگے۔ دعا دراصل اللہ کے مقابلے میں اپنے عجز کا اظہار ہے۔
عجز کا اظہار ہمیشہ اللہ کی عظمت کے کامل اعتراف سے پیدا ہوتا ہے۔ جو آدمی اللہ کی عظمت کو دریافت کرے، اس کے نتیجے میں اس کے اندر اپنے بارے میں کامل عجز، یعنی ٹوٹل ہیلپ لیسنس، کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ عجز کا احساس جب لفظوں میں ڈھل جائے تو اسی کا نام دعا ہے۔ عافیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں آدمی کو صحت اور سکون کی زندگی حاصل ہو جائے۔
دنیا کی زندگی میں صحت اور سکون، بلاشبہ سب سے بڑی نعمت کی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی بھی کام، کوئی بھی کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کو اس قسم کی عافیت حاصل ہو۔ عافیت کا حصول انسان کے اپنے بس میں نہیں۔ جس طرح زندگی اللہ کی طرف سے ملتی ہے، اسی طرح عافیت بھی اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔
عافیت کی اسی اہمیت کا تقاضا ہے کہ آدمی ہر وقت خدا سے عافیت کی دعا کرتا رہے۔ عافیت کا تعلق دولت، یعنی ویلتھ، یا مادی سامانِ راحت سے نہیں ہے۔ عافیت کا تعلق تمام تر ذہنی سکون سے ہے۔ یہ ذہنی سکون کسی انسان کو اللہ کی خصوصی توفیق سے ملتا ہے۔
کوئی انسان ذکر اور دعا اور عبادت اور معرفت کا ثبوت اسی وقت دے سکتا ہے جب کہ اس کو عافیت کی زندگی حاصل ہو جائے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا درست ہوگا کہ اللہ سے مانگنے کی سب سے بڑی چیز عافیت ہے، نہ کہ دولت یا مادی سامانِ راحت۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 303۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.