Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Shukr-e-qaleel,Shukr-e-kaseer.

Urdu · 4 min

شکرِ قلیل، شکرِ کثیر۔ ایک روایت کے مطابق پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "من لم يشكر القليل لم يشكر الكثير." مسند احمد، جلد 4، صفحہ 278۔ یعنی جو شخص کم پر شکر نہیں کرے گا، وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرے گا۔ اس حدیثِ رسول میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے۔

وہ قانون یہ ہے کہ چھوٹے واقعے کو یاد کرنے سے بڑے بڑے واقعات ذہن میں تازہ ہو جاتے ہیں۔ نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے دماغ میں بہت سے الگ الگ فائلز ہوتے ہیں، مثلاً محبت کا فائل، نفرت کا فائل، اعتراف یعنی acknowledgement کا فائل، ظلم کا فائل، وغیرہ۔ جو چیزیں انسان کے تجربے اور مشاہدے میں آتی ہیں، ان کو دماغ الگ الگ ان کے متعلق فائل میں ڈالتا رہتا ہے۔ آدمی جب کسی ایک واقعے سے متاثر ہو تو اس وقت انسان کا دماغ ٹرگر ہو جاتا ہے، اور پھر فوری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس نوعیت کا فائل کھل جاتا ہے، اور اس نوعیت کے تمام واقعات آدمی کے ذہن میں تازہ ہو جاتے ہیں۔

فطرت کا یہ قانون شکر اور اعتراف کے معاملے میں بھی بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ مثلاً آج آپ کو ایک موبائل ملا، اس سے آپ نے دور کے ایک شخص سے بات کی، اس وقت آپ نے سوچا کہ پہلے زمانے میں مجھ کو دوسرے کسی آدمی سے ربط کرنے میں کتنی مشکل پیش آتی تھی۔ اس پر آپ نے گہرے تاثر کے ساتھ خدا کا شکر ادا کیا۔ تو اس کے بعد فوراً یہ ہوگا کہ آپ کا دماغ ٹرگر ہو جائے گا۔

اسی وقت دماغ کا وہ فائل کھل جائے گا جس میں آپ کی پوری زندگی میں پیش آنے والے شکر و اعتراف کے تمام آئٹم محفوظ ہیں۔ فطرت کے اس نظام کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ شکر کے چھوٹے واقعے کی یاد شکر کے دوسرے تمام واقعات یاد دلا دیتی ہے۔ اس طرح شکر کا چھوٹا واقعہ بڑے شکر کا سبب بن جاتا ہے، یہاں تک کہ آدمی کے دل میں شکر کا چشمہ جاری ہو جاتا ہے۔ شکر کا احساس خدا سے آدمی کے تعلق کو بڑھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اعلیٰ معرفت کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔

کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 302۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.