دنیا کی حقیقت: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "الدنيا ملعونةٌ، ملعونٌ ما فيها إلا ذكر الله وما والاه، وعالماً ومتعلماً." الترمذی، رقم الحدیث 2322۔ یعنی دنیا ملعون ہے، اور جو کچھ دنیا کے اندر ہے وہ سب ملعون ہے، سوا ذکر اللہ کے اور وہ چیز جو اس کے قریب ہو۔ اور عالم اور طالب علم—دنیا اور ذکر اللہ—دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ یادِ الہی کے لیے دنیا کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا لینا، یہی وہ چیز ہے جس کو اس حدیث میں "ذکر اللہ" کہا گیا ہے۔
اگر یہ یاد اللہ کے نام کے ساتھ ہو تو وہ براہِ راست ذکر ہے، اور اگر نام کے بغیر اللہ کو یاد کیا جائے تو وہ بالواسطہ ذکر۔ اسی طرح وہ عالم اور وہ طالب علم—خدا کے نزدیک مطلوب عالم اور طالب علم ہیں—جو اپنے علم کو ذکرِ الہی کا ذریعہ بنائیں۔ دنیا یا دنیا کی چیزوں کا خالق بھی اللہ ہے، اس لیے دنیا فی نفسہی ملعون نہیں ہو سکتی؛ یہ دراصل دنیا کا استعمال ہے جو اس کو ملعون یا غیر ملعون بناتا ہے۔ جو شخص دنیا کو پا کر خدا کو بھول جائے، اس کے لیے دنیا ملعون کا درجہ رکھتی ہے۔
اور جس شخص کے لیے دنیا کو پانا یادِ الہی کا ذریعہ بن جائے، اس کے لیے دنیا رحمت اور سعادت کی چیز ثابت ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا آزمائش یعنی ٹیسٹ کے لیے بنائی گئی ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں آزمائشی پرچے یعنی ٹیسٹ پیپرز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ پرچے اس لیے ہیں تاکہ ناکام ہونے والوں اور کامیاب ہونے والوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے۔
جس شخص نے دنیا کی چیزوں سے یادِ خداوندی کی غذا لی، وہ اس آزمائش میں کامیاب ہوا۔ اس کے برعکس، جس آدمی کے لیے دنیا کی چیزیں خالق سے دوری اور فراموشی کا سبب بن گئیں، وہی وہ انسان ہے جو آزمائش میں ناکام ہو گیا۔ اس طرح دنیا بااعتبارِ استعمال کسی کے لیے ذریعۂ لعنت ہے اور کسی کے لیے ذریعۂ رحمت۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 301۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.