تجدیدِ ایمان کی ضرورت حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جدّدوا إيمانكم" قیل: "کَیْفَ نُجَدِّدُ إيمانَنَا؟ " قال: "أكثروا من قول لا إله إلا الله" مسند احمد، رقم الحدیث 8353۔ یعنی لا إله إلا الله کے کلمے کے ذریعے اپنے ایمان کی تجدید کرو۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ کلمہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو ایک بار پڑھ لیا جائے اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے کافی ہو جائے؛ بلکہ بار بار اس کی تجدید ضروری ہے۔
تجدیدِ کلمے کا مطلب ہے شعورِ ایمان کو بار بار بیدار کرتے رہنا، تاکہ آدمی کے اوپر غفلت اور بے حسی کی حالت طاری نہ ہو۔ آدمی ہمیشہ زندہ اور متحرک ایمان کے ساتھ جی سکے۔ اس حدیث کا ایک اور پہلو ہے جو اس روایت سے معلوم ہوتا ہے: "الإسلام يهدم ما كان قبله" صحیح مسلم، رقم الحدیث 192۔ یعنی اسلام قبل کی چیزوں کو ڈھا دیتا ہے۔
اس معاملے کا ایک پہلو وہ ہے جو اس وقت سے تعلق رکھتا ہے جبکہ آدمی کلمہ پڑھ کر مومن بنا ہو۔ اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جو بعد کی زندگی سے تعلق رکھتا ہے: ایمان لانے کے بعد بھی بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سے خطائیں سرزد ہوتی ہیں، وہ محسوس کرتا ہے کہ میں خدا کی رحمت سے دور ہو گیا۔ اس وقت مومن کو یہ کرنا ہے کہ وہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر دوبارہ اپنی تنہائیوں میں زندہ شعور کے ساتھ کلمہ ادا کرے۔ وہ کہے کہ "أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداً عبده ورسوله" یہ کہہ کر وہ خدا سے دعا کرے کہ خدایا میرے گناہوں کو معاف کر دے اور مجھ کو دوبارہ اپنی رحمتوں کے سائے میں لے لے۔
میں نے پھر سے ایمان قبول کیا تاکہ پھر سے میں مومنین و صالحین کی جماعت میں شامل ہو جاؤں۔ خدایا میں تیرے راستے سے بھٹک گیا تھا، تو میری پچھلی زندگی کو میرے دورِ جاہلیت میں شامل کر دے اور مجھ کو دوبارہ ایمان و اسلام کی زندگی عطا فرما دے۔ جو آدمی زندہ شعور کے ساتھ ایسا کرے، اس کو بار بار نیا ایمان ملتا رہے گا۔ اس تجدیدِ ایمان کے نتیجے میں اس کا وہ حال ہو جائے گا جس کو حدیث میں "كان كيومٍ ولدته أمه" صحیح البخاری، رقم الحدیث 1449 کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
یعنی نومولود بچے کی طرح معصوم۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 300۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.